دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #2576
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
اویس نام کادرست تَلَفُّظْ اور معنی کیا ہے نیز یہ نام رکھنا کیسا ہے ؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
13,447
سوال (Question):
اویس نام کادرست تَلَفُّظْ اور معنی کیا ہے نیز یہ نام رکھنا کیسا ہے ؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
اویس نام کادرست تَلَفُّظْ اور معنی کیا ہے نیز یہ نام رکھنا کیسا ہے ؟
الجوابـــــــــــــــــــــــــــ اویس نام کادرست تلفظ یہ ہے: اُوَیْسْ {کمافی کتب اللغة} نوٹ: کچھ لوگ اسکو”اَوَیْس” پڑھتےہیں جوکہ درست نہیں اور اویس نام کے معنی کے حوالے سے عرض ہےکہ : اویس “اَوْسْ”کی تَصْغِیْر ہے اور اوس کا معنی بھیڑیا اور عَطِیَّہْ آتا ہے اور بعض کتب میں اویس کا معنی بھیڑیا بھی لکھا ہے، جیساکہ لسان العرب میں ہے: “اُوَیْسُ تَصْغِیْرُاَوْسٍ وَھُوَمِنْ اَسْمَاءِالذِّئْبِ” یعنی اویس “اوس” کی تصغیر ہے اور وہ (اوس) بھیڑیے کے اسماء میں سے ہے۔ {لسان العرب جلداول صفحہ 55دمشق} المحیط فی اللغة میں ہے: “اَلْاَوْسُ اَلْعَطَاءُ” یعنی اوس(کامعنی) عطیہ ہے ۔ {المحیط فی اللغة جلد 2صفحہ 286، القاموس الوحید جلد1 صفحہ 141دارالاشاعت} اورالمنجدمیں ہے: “اُوَیْس : بھیڑیا” {المنجدعربی اردوصفحہ 40 خزینہ علم وادب لاہور} جبکہ اویس نام رکھنےکے متعلق یہ حکم ہے کہ : ایک مشھور تابعی کا نام بھی (حضرت) ”اویس“(قرنی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ) ہے جن کے فضائل کُتُبِ حدیث میں موجود ہیں {کمافی الصحیح المسلم} اور حضورﷺ نے بھی اس نام کو برقرار رکھا، لہذا معنی عطیہ اور نسبتِ تابعی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کا لحاظ کرتے ہوئے اویس نام رکھنا بالکل جائز ہے ۔ واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وسلم کتبـــــــہ : مفتی ابو اسید عبیدرضامدنی
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat