بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2576 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
اویس نام کادرست تَلَفُّظْ اور معنی کیا ہے نیز یہ نام رکھنا کیسا ہے ؟
الجوابـــــــــــــــــــــــــــ اویس نام کادرست تلفظ یہ ہے: اُوَیْسْ {کمافی کتب اللغة} نوٹ: کچھ لوگ اسکو”اَوَیْس” پڑھتےہیں جوکہ درست نہیں اور اویس نام کے معنی کے حوالے سے عرض ہےکہ : اویس "اَوْسْ”کی تَصْغِیْر ہے اور اوس کا معنی بھیڑیا اور عَطِیَّہْ آتا ہے اور بعض کتب میں اویس کا معنی بھیڑیا بھی لکھا ہے، جیساکہ لسان العرب میں ہے: "اُوَیْسُ تَصْغِیْرُاَوْسٍ وَھُوَمِنْ اَسْمَاءِالذِّئْبِ” یعنی اویس "اوس” کی تصغیر ہے اور وہ (اوس) بھیڑیے کے اسماء میں سے ہے۔ {لسان العرب جلداول صفحہ 55دمشق} المحیط فی اللغة میں ہے: "اَلْاَوْسُ اَلْعَطَاءُ” یعنی اوس(کامعنی) عطیہ ہے ۔ {المحیط فی اللغة جلد 2صفحہ 286، القاموس الوحید جلد1 صفحہ 141دارالاشاعت} اورالمنجدمیں ہے: "اُوَیْس : بھیڑیا” {المنجدعربی اردوصفحہ 40 خزینہ علم وادب لاہور} جبکہ اویس نام رکھنےکے متعلق یہ حکم ہے کہ : ایک مشھور تابعی کا نام بھی (حضرت) ”اویس“(قرنی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ) ہے جن کے فضائل کُتُبِ حدیث میں موجود ہیں {کمافی الصحیح المسلم} اور حضورﷺ نے بھی اس نام کو برقرار رکھا، لہذا معنی عطیہ اور نسبتِ تابعی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کا لحاظ کرتے ہوئے اویس نام رکھنا بالکل جائز ہے ۔ واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وسلم کتبـــــــہ : مفتی ابو اسید عبیدرضامدنی
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ