لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

بدمذھبوں کی صحبت اختیار کرنا, ان کے ساتھ کھانا پینا کیسا ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

بدمذھبوں کی صحبت اختیار کرنا, ان کے ساتھ کھانا پینا کیسا ؟

الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــ بدمذھبوں کی صحبت اختیار کرنا، ان کے ساتھ اٹھنا بیھٹنا ،کھانا پینا وغیرہ امور شرعا ًممنوع ہیں اور ایمان کیلیے زہرِقاتل ہیں۔ چنانچہ اللہ عزوجل ارشادفرماتا ہے: "واماینسینک الشیطن فلاتقعدبعدالذکری مع القوم الظلمین” ترجمہ: اگر تجھے شیطان بھلا دے تو یاد آنے پر پاس نہ بیٹھ ظالموں کے۔ اسکی تفسیرمیں ملاجیون رحمۃ اللّٰہ علیہ نےفرمایا: "دخل فیہ الکافروالمبتدع والفاسق والقعودمع کلھم ممتنع” یعنی اس آیت کے حکم میں ہر کافر، بدعتی اور فاسق داخل ہے اور ان میں سے کسی کے پاس بیٹھنے کی اجازت نہیں۔ {تفسیرات احمدیہ} ایک اورجگہ اللہ تعالی ارشاد فرماتاہے: "ولاترکنواالی الذین ظلموا فتمسکم النار” ترجمہ :ظالموں کی طرف میل نہ کرو کہ تمھیں آگ چھوئے گی ـ آقادوعالم ﷺنےفرمایا: "ایاکم وایاھم لایضلونکم ولایفتنونکم” یعنی ان (بدمذھبوں)سےدوررہو اور انہیں اپنےسےدورکرو،کہیں وہ تمہیں گمراہ نہ کردیں اور کہیں وہ تمہیں فتنہ میں نہ ڈال دیں ۔ {صحیح مسلم } ابن حبان ،طبرانی اورعقیلی کی حدیث میں ہےکہ آقادوعالم نورِمجسم ﷺفرماتےہیں: "لاتؤاکلوھم ولاتشاربوھم ولاتجالسوھم ولاتناکحوھم واذامرضوافلاتعودھم واذاماتوا فلاتشھدوھم ولاتصلواعلیھم ولاتصلوا معھم " یعنی ان (بدمذھبوں)کےساتھ کھانانہ کھاؤ ،انکےساتھ پانی نہ پیو ،انکےپاس نہ بیٹھو،انکے ساتھ رشتہ مت کرو ،وہ بیمارپڑیں توعیادت مت کرو ،وہ مرجائیں توجنازہ پرنہ جاؤ ،نہ انکی نمازپڑھواورنہ ان کےساتھ نمازپڑھو۔ مسلمان کا یہ ایمان ہے کہ اللہ عزوجل اور اس کے پیارے محبوب ﷺ سے بڑھ کر ہماری بھلائی اور خیرخواہی چاہنے والا کوئی نہیں ،تو اگر وہ کسی کام کی طرف بلائیں تو اس میں ہمارا بھلا ہی بھلا ہے اور اگر کسی کام سے منع کریں تو اس کام میں دونوں جہانوں کا خسارہ (نقصان) ہے، تو اللہ عزوجل اور اس کے پیارے رسولﷺ نے بدمذھبوں کے پاس بیٹھنے، ان کی صحبت اختیار کرنے ان کے ساتھ کھانے پینے سے منع فرمایا ہےلہذا اس سے نہ بچنے میں ہمارے لیے سراسر نقصان ہی نقصان ہے۔ ٹوٹ : بدمذھب وگمراہ کون؟ جس کےعقائدیاکوئی عقیدہ اہل سنت وجماعت کےعقیدہ سےمختلف ہووہ گمراہ اور بدمذھب ہے ۔ جیساکہ تاج العروس اورمعجم لغةالفقھاء میں ہے: "اھل الاھواء: الذین لایکون معتقدھم معتقد اھل السنة والجماعة وھم الجبریة والقدریة والروافض والخوارج والمعطلة والمشبھة” یعنی گمراہ وبدمذھب وہ لوگ ہیں جواہل سنت وجماعت کےعقیدےجیساعقیدہ نہیں رکھتے،ان گمراہ فرقوں میں جبریہ،قدریہ،روافض،خوارج (وہابیہ)معطلہ اورمشبھہ ہیں ـ {معجم لغةالفقھاء صفحہ 95 دارالنفائس} المختصرجوسنی نہیں وہ بدمذھب وگمراہ ہے ـ واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وسلم کتبـــــــــــہ : مفتی ابو اسید عبیدرضامدنی

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات