لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

کیاٹیسٹ ٹیوب بےبی جائز ہے؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

کیاٹیسٹ ٹیوب بےبی جائز ہے؟

الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ٹیسٹ ٹیوب بےبی کےجتنےبھی رائج طریقےہیں ان میں سےایک طریقہ جائزہےاورباقی طریقے ناجائزوحرام ہیں: جائزطریقہ: اگرشوہرکامادہ منویہ اسکی بیوی کےرحم میں ٹیوب کےذریعےرکھاجائےاوریاتوشوہر خودرکھےیابیوی اپنےرحم میں رکھے اورمزیدشرط یہ ہےکہ شوہرخودمشت زنی کرکے(یعنی اپنےہاتھوں سےمنی نکال کر)اپنامادہ اس کام کیلیےنہ نکالےبلکہ یاتوبیوی کےہاتھ کےذریعےمادےکااخراج کروائے یابیوی کی اجازت سے عزل(عزل کامعنی یہ ہےصحبت کرتےوقت جب منی نکلنےلگےتوشوہر اپنےعضوکوباہر نکال کرشرم گاہ سےباہرمنی کونکالے ) کےذریعےمادہ منویہ حاصل کرے۔ ناجائزطریقے: مذکورہ بالاطریقےکےعلاوہ باقی رائج طریقےناجائزوگناہ ہیں جیسے: 1-شوہرکےعلاوہ کسی دوسرےکامادہ رحم میں رکھوانا۔ 2۔مادہ توشوہرکاہومگرخودعورت یااسکاشوہررحم میں نہ رکھیں بلکہ کوئی اورمردیاعورت اسکےرحم میں مادہ رکھیں 3-مشت زنی کرکے شوہراپنامادہ حاصل کرے وغیرہ وغیرہ ۔ واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وسلم کتبـــــــــــــــہ : مفتی ابو اسید عبیدرضامدنی

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات