دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #2557
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
کیاٹیسٹ ٹیوب بےبی جائز ہے؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
4,985
سوال (Question):
کیاٹیسٹ ٹیوب بےبی جائز ہے؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
کیاٹیسٹ ٹیوب بےبی جائز ہے؟
الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ٹیسٹ ٹیوب بےبی کےجتنےبھی رائج طریقےہیں ان میں سےایک طریقہ جائزہےاورباقی طریقے ناجائزوحرام ہیں: جائزطریقہ: اگرشوہرکامادہ منویہ اسکی بیوی کےرحم میں ٹیوب کےذریعےرکھاجائےاوریاتوشوہر خودرکھےیابیوی اپنےرحم میں رکھے اورمزیدشرط یہ ہےکہ شوہرخودمشت زنی کرکے(یعنی اپنےہاتھوں سےمنی نکال کر)اپنامادہ اس کام کیلیےنہ نکالےبلکہ یاتوبیوی کےہاتھ کےذریعےمادےکااخراج کروائے یابیوی کی اجازت سے عزل(عزل کامعنی یہ ہےصحبت کرتےوقت جب منی نکلنےلگےتوشوہر اپنےعضوکوباہر نکال کرشرم گاہ سےباہرمنی کونکالے ) کےذریعےمادہ منویہ حاصل کرے۔ ناجائزطریقے: مذکورہ بالاطریقےکےعلاوہ باقی رائج طریقےناجائزوگناہ ہیں جیسے: 1-شوہرکےعلاوہ کسی دوسرےکامادہ رحم میں رکھوانا۔ 2۔مادہ توشوہرکاہومگرخودعورت یااسکاشوہررحم میں نہ رکھیں بلکہ کوئی اورمردیاعورت اسکےرحم میں مادہ رکھیں 3-مشت زنی کرکے شوہراپنامادہ حاصل کرے وغیرہ وغیرہ ۔ واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وسلم کتبـــــــــــــــہ : مفتی ابو اسید عبیدرضامدنی
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat