بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2554 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
کس صورت میں وضو میں کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا جائز نہیں؟
الجوابــــــــــــــــــــــــــــــ نماز کا وقت تنگ ہو گیا ہو یا پانی اتنا کم ہو کہ اگر کلی کریں گے اور ناک میں پانی ڈالیں گے تو فراٸضِ وضو کیلیے پانی پورا نہیں ہوگا تو ان دو صورتوں میں کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا وضو میں جاٸز نہیں ۔ چنانچہ الاشباہ والنظائر میں ہے: "لَوْضَاقَ الْوَقْتُ اَوِ الْمَاءُ عَنْ سُنَنِ الطَّھَارَةِ حَرُمَ فِعْلُھَا” یعنی اگر وقت یاپانی طہارت(یعنی وضو)کی سنتوں کیلیے تنگ ہو تو سنتوں (کلی , ناک میں پانی ڈالنا وغیرہ ) کی ادائیگی حرام ہے ـ (الاشباہ والنظائر صفحہ 117 ) واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وسلم کتبـــــــــــہ : مفتی ابو اسید عبیدرضامدنی
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ