دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #2552
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
کیا اہل باطل کا رد ہرفرد مسلم پر ضروری ہے؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
6,256
سوال (Question):
کیا اہل باطل کا رد ہرفرد مسلم پر ضروری ہے؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
کیا اہل باطل کا رد ہرفرد مسلم پر ضروری ہے؟
سوال: کیا اہل باطل کا رد ہرفرد مسلم پر ضروری ہے؟ اگر ایسا ہے تو بیچارے عوام کیسے رد کریں گے کیا یہ ان کے بس میں ہے؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــ ردو انکارتوسب پر ضروری ہے مگر شریعت طاہرہ نے ہر ایک کو ایسے ہی رد کا مکلف اور ذمہ دار کیا ہے جو اس کے بس میں ہو صحابی رسول حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم میں سے جو کوئی شخص خدا اور رسول کی معصیت و نافرمانی کا کوئی کام دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ سے بدل دے یعنی روک دے، اگر یہ بس میں نہ ہو تو اپنی زبان سے روکے اور اگر یہ بھی بس میں نہ ہو تو دل سے اسے برا جانے اور یہ ایمان کا کمزور حصہ ہے ۔ فتاویٰ عالمگیری میں ہے کہ معصیت کو ہاتھ سے روک دینا اور اس پر پابندی لگا دینا حکام کی ذمہ داری ہے اور زبان سے روکنا علماء کی ذمہ داری ہے اور دل سے برا جاننا عوام الناس کی ذمہ داری ہے ۔ یہاں سے واضح ہوا کہ شریعت مطہرہ نے حکام اور علماء اور عوام پر رد اور انکار کی بس اتنی ہی ذمہ داری عائد کی ہے جو ان کے بس میں ہے لہذا جو جس طرح کے رد اور انکار کا مکلف اور ذمہ دار ہے وہ اسے بجا لائے ۔ واللہ تعالی اعلم ۔ کتبہ : محقق مسائل جدیدہ حضرت علامہ مفتی محمد نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat