بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2541 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
صف میں جگہ خالی ہو تو دوسری صف بنانے سے نماز ہوگی یا نہیں
کئی صفیں لگ گئیں اور کسی صف میں ایک آدمی کی جگہ باقی رہ گئی ہو اور اس کو چھوڑ کر پیچھے صفیں لگالی جائیں تو اگلی صف کے لوگوں کی نماز ہوگی یا نہیں؟ الجوابــــــــــــــــــــــــ نماز تو ہو جائے گی, مگر جن لوگوں نے جانتے ہوئے صف کی وہ جگہ خالی رکھی ہے وہ سب گنہگار ہوں گے کہ حدیث شریف میں ہے : من وصل صفا وصلہ اللہ ومن قطعہ اللہ ترجمہ : جو صف کو جوڑے اسے اللہ جوڑے اور جو صف کو کاٹے اسے اللہ کاٹے – اس بارے میں حکم شرعی یہ ہے کہ پیچھے سے آنے والے کو معلوم ہو کہ آگے کی صف میں جگہ خالی ہے تواس پر لازم ہے کہ صفوں کو چیرتاہوا آگے نکل جائے اور صف کی اس خالی جگہ کو پر کرے – یہ ہماری ڈسپلن ہے، ہمارا نظم و نسق ہے – اسلام میں جس نظم و نسق کی تعلیم دی گئی ہے اس کا ادنیٰ نمونہ یہ بھی ہے – واللہ تعالیٰ اعلم کتبــــــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارک پور
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ