بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2526 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
قرض دئے ہو ے پیسوں پر زکوۃ کی نیت کرنا کیسا ہے ؟
سوال : زید نے اپنی پھوپھی کو ایک ہزار روپے قرض دیا لیکن اس نے قرض کی رقم واپس نہیں کی کیونکہ اس وقت تو اس کی حیثیت دینے کے لائق نہیں ہے زید نے سوچا کہ وہ پیسہ زکوۃ کے طور پر اسے دے دوں توکیا اس سے زیادہ ادا ہو جائے گی یا نہیں؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــ ایسا نہیں ہو سکتا کہ قرض کے طور پر دیا تھا اور اب زکوۃ کی نیت کر لے تو زکوٰۃ ادا ہوجائے زکوٰۃ ایک عبادت ہے جس طرح نماز ایک عبادت ہے اور عبادت صحیح ہونے کے لئے وقت ادا نیت عبادت ضروری ہے اور یہاں تو وقت ادا نیت قرض تھی ۔ اگر کوئی نماز کی طرح اٹھک بیٹھک کرے اور نماز کی نیت نہ کرے تو اس کی نماز نہ ہوگی. اسی طرح سے کوئی رقم کسی محتاج فقیر کو دے دے اور دیتے وقت زکوۃ کی نیت نہ کرے تو زکوۃ ادا نہ ہوگی اور جس وقت دیا تھا اس وقت اس کی نیت زکوٰۃ کی نہ تھی اس لئے اس کی زکوۃ ادا نہیں ہوگی ۔ ہاں اگر زیادہ چاہتا ہے کہ وہ روپیہ زکوۃ میں شمار ہو تو اس کی صورت یہ ہے کہ پھوپھی کو اپنے پاس سے زکوۃ کی نیت سے زکوٰۃ کا دوسرا مال دے دے اور جب پھوپھی اس پر قبضہ کرلے تو وہ ادائے قرض کی نیت سے زید کو واپس کر دے اور اگر وہ واپس نہ کرے تو زید اس کے ہاتھ سے اپنے قرض کی وصولی میں لے سکتا ہے اس طریقے سے زکوۃ ادا ہو جائے گی اور اسے قرض کا روپیہ بھی مل جائے گا ۔ واللہ تعالی اعلم ۔ کتبہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ