صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

دارالافتاء
اہل سنت

MASAIL WORLD

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat

www.masailworld.com

مسائل ورلڈ

دارالافتاء اہل سنت

Fatwa #2524 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)

عورتوں کا قبروں پر جانا اور مجاور بننا کیسا ہے ؟

سائل (Questioner): دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat تاریخ: September 18, 2025
0 8,694

سوال (Question):

عورتوں کا قبروں پر جانا اور مجاور بننا کیسا ہے ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

عورتوں کا قبروں پر جانا اور مجاور بننا کیسا ہے ؟

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیارت قبور میں عورتوں کے واسطے کیا حکم ہے؟ دیگر کسی کے بزرگوں کے پاس سے پشت درپشت کسی اولیاء اﷲ کی مجاوری او رخدمت گزاری ملی ہے تو فاتحہ دینا اس قبر پر صندل چڑھانا، غلاف چڑھانا، مجاور مرد لوگ موجود ہوکر عورت کو جائز ہے ? اس مزارپرہمیشہ مرد مجاور رہا کرتے ہیں، وہ عورت مجاور کے خاندان سے ہے مگر نہایت بدچلن ہے ۔ اس عورت کو کیا اختیار ہے؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ عورتوں کو زیارت قبور منع ہے ۔ حدیث میں ہے: لعن اﷲ زائرات القبور  – ﷲ کی لعنت ان عورتوں پرجو قبروں کی زیارت کوجائیں، مجاور مردوں کو ہونا چاہئے ، عورت مجاور بن کر بیٹھے اور آنے جانے والوں سے اختلاط کرے یہ سخت بد ہے، عورت کو گوشہ نشینی کا حکم ہے، نہ یوں مردوں کے ساتھ اختلاط کا ، جس میں بعض اوقات مردوں کے ساتھ اسے تنہائی بھی ہوگی، اوریہ حرام ہے ۔ واﷲ تعالٰی اعلم

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat