بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2514 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
شوال کے روزے کب رکھے جائیں؟
الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــ عید کے بعد دوسرے دن سے جب چاہیں یہ روزے رکھ سکتے ہیں، بس یہ لحاظ رہنا چاہیے کہ ماہ شوال میں یہ روزے مکمل کر لیے جائیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مطلقا شوال میں روزے رکھنے کی فضیلت بیان فرمائی ہے ۔ مثلا صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا ” جس نے رمضان کے روزے رکھے پھر ان کے بعد چھ دن شوال میں رکھے تو وہ ایسا ہے جیسے اس نے زمانے کا روزہ رکھا ۔ (صحیح مسلم، کتاب الصیام، باب استحباب صوم ستۃ ایام من شوال) اس سے یہ معلوم ہوا کہ یہ فضیلت شوال میں چھہ روزے رکھنے کی ہے اور جب یہ ترغیب مطلق ہے تو پورے شوال میں ایک ساتھ یا الگ یہ روزے رکھے گا اختیار ہے ہاں اگر ایک ایک دن کے ناغے سے تو یہ بہتر ہے ۔ اگر عورتوں کو روزے رکھنے ہیں تو یہ ضروری ہے کہ وہ ایام عورتوں کی پاکی کے ہوں یعنی نہ تو حیض کا خون آ رہا ہوں اور نہ نفاس کا خون آرہا ہوں ان دونوں کے علاوہ وہ جب چاہیں پورے شوال میں روزے رکھ سکتی ہیں ۔ واللہ تعالی اعلم ۔ کتبـــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ