بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2512 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
ہائی ڈپوزٹ پر گھر یا دوکان لینا جائز ہے یا نہیں ؟
سوال :ہائی ڈپوزٹ کا رواج ممبئی میں بڑھتا جا رہا ہے یہ جائز ہے یا ناجائز؟ کسی صاحب مکان کو لمبی رقم دے کر اس کا مکان لے لیتے ہیں پھر اسے کرائے پر دے کر نفع حاصل کرتے ہیں جب اس کی دی ہوئی لمبی رقم اسے واپس ملتی ہے تو یہ اسے اس کا مکان واپس کر دیتا ہے اس کو ہائی ڈپوزٹ کہا جاتا ہے مزید عرض ہے کہ اس لمبی رقم کی زکوٰۃ کس پر فرض ہے؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــ ہائی ڈپوزٹ کا یہ معاملہ درحقیقت قرض اور سود کا معاملہ ہے۔ وہ لمبی رقم جسے ہائی ڈپوزٹ کہا جاتا ہے شرعا قرض ہے اور قرض دے کر مقروض کے مکان سے نفع حاصل کرنا سود ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ ” کل قرض جر نفعا فھو ربوا ” قرض کی وجہ سے جو نفع ملے وہ سود ہے ۔ نالے پر زکوۃ قرض دینے والے پر فرض ہوتی ہے اس لیے قرض دینے والا اس کی زکوۃ ادا کرے، ساتھ ہی مقروض کے مکان سے اس نے جو نفع کمایا وہ بھی اسے واپس کرے ۔ و اللہ تعالی اعلم کتبــــــــــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ