لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

عورت اپنی شادی میں کتنے مہر کا مطالبہ کر سکتی ہے؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

عورت اپنی شادی میں کتنے مہر کا مطالبہ کر سکتی ہے؟

الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــ مہر عورت کا حق ہے، وہ اپنی شادی میں جتنا چاہے مہر مانگ سکتی ہے وہ چاہے تو مہر فاطمی کا مطالبہ کرے ۔ مگر اس کے لیے شوہر کی رضا مندی ضروری ہے ،اسے جو بھی مانگنا ہے مانگ سکتی ہے ، لیکن جتنے پر میاں بیوی کا اتفاق ہو جائے اتنا ہی مقرر کیا جائے ۔ مہر زیادہ سے زیادہ مقرر کرنا چاہیے۔ قرآن مجید میں مہر کے لیے” قنطار” کا لفظ آیا ہے یعنی "مال کثیر” خود ازواج مطہرات کے مہر اچھی مقدار میں تھے۔ حضرت سیدتنا فاطمہ الزہرارضی اللہ تعالی عنہا کا جو مہر مقرر ہوا تھا وہ ایک کلو آٹھ سو چھیاسٹھ گرام ، دو سو چالیس ملی گرام (1866,240g) چاندی تھا۔ لیکن آج کے زمانے میں مہر کی حیثیت گھٹا دی گئی ہے اور لوگ مہر کے تعلق سے بخل سے کام لے رہے ہیں اس لیے عورتوں کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ مہر کا مطالبہ کریں کریں ۔ والله تعالى اعلم بالصواب کتبـــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارک پور 

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات