صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

دارالافتاء
اہل سنت

MASAIL WORLD

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat

www.masailworld.com

مسائل ورلڈ

دارالافتاء اہل سنت

Fatwa #2505 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)

معذور شخص جو جسم کی صفائ نہیں کر سکتا تو اس کا بیٹا کرے

سائل (Questioner): دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat تاریخ: September 18, 2025
0 10,231

سوال (Question):

معذور شخص جو جسم کی صفائ نہیں کر سکتا تو اس کا بیٹا کرے

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

معذور شخص جو جسم کی صفائ نہیں کر سکتا تو اس کا بیٹا کرے

سوال : ایک صاحب نہایت ہی ضعیف ہیں اپنے جسم کی صفائی نہیں کرسکتے اور اس وقت دنیا میں ان کی بیوی بھی نہیں ہے تو کیا ان کے جسم کی صفائی ان کا بیٹا کرسکتا ہے؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــ یہ مسئلہ بہرحال دشوار ہے اگر ان کی اہلیہ نہیں ہیں تو سب سے پہلے ان کو حکم یہ ہے کہ وہ کسی عورت سے نکاح کریں جو ان کی خدمت کرسکے بہت سی عورتیں ضرورت مند ہوتی ہیں کہ کوئی بھی نوکری مل جائے تاکہ ان کا گزر بسر صحیح سے ہو سکے ۔ ایسی حاجتمند عورت سے نکاح کرلیں اور خدمت لیتے رہیں اس میں کوئی قباحت نہیں ہے ۔ لیکن فرض کیجئے ایسا کوئی انتظام نہیں ہے اور کسی مصنوعی طریقے سے وہ اپنی صفائی نہیں کر سکتے ہیں تو ایسی مجبوری میں بیٹے کو یہ اجازت ہوگی کے اپنے بائیں ہاتھ پر پلاسٹیک وغیرہ کا دستانہ نصف ہاتھ تک پہن لے ،دستانہ پہننے کے بعد وہ ان کو استنجا کراسکتا ہے ۔ وہ بھی اس طور پر کیا ادھر آنکھ نہ جائے، منہ پھیر لے رہے اور صفائی کردے ، لیکن یہ انتہائی مجبوری کی صورت میں حکم ہیں اور اگر کوئی ایسی صورت نہ ہو تو ہرگز اجازت نہ ہوگی ۔ والله تعالى اعلم بالصواب کتبـــــــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارک پور

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat