لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

اسلام میں دوسری برادری میں شادی کرنا کیسا ہے ؟ مفتی نظام الدین رضوی

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

اسلام میں دوسری برادری میں شادی کرنا کیسا ہے ؟ مفتی نظام الدین رضوی

سوال : کچھ بچیوں نے عرض کیا ہے ہمارے رشتے نہیں لگتے ہیں اور عمر بڑھتی جا رہی ہے وہ کافی پریشان ہیں کہ کہیں بات بنتی ہے تو پھر ٹوٹ جاتی ہے وہ دعا کی درخواست کرتی ہیں, اور وہ کوئی ایسا وظیفہ بھی چاہتی ہیں جس کو وہ پڑھ سکیں تا کہ انہیں اچھے رشتے مل جائیں ۔ سوال یہ ہے کہ لوگوں نے اسلام کے اندر طبقے بنا لیے ہیں کوئی سید ، تو کوئی صدیقی یا خان ہے ۔ سب کی اپنی اپنی جماعت ہے اور وہ آپس میں رشتہ نبھاتے ہیں اور اس کے علاوہ دوسری جماعت میں وہ رشتہ نہیں کرتے ہیں ، نہ کرنے دیتے ہیں اسی وجہ سے کافی بچیاں گھر بیٹھی ہیں ۔ الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــ اسلام میں طبقات کا کوئی مسئلہ نہیں ، یعنی اونچ نیچ کا کوئی مسئلہ نہیں چھوٹے بڑے کا کوئی امتیاز نہیں ہے۔ لیکن نکاح والے مسئلے میں عرف ناس کے باعث اس کاکچھ لحاظ ہے ، اس میں برادری اور پیشے کا لحاظ رکھا گیا ہے ۔ لیکن لڑکیوں کے تعلق سے تو ایسا کوئی لحاظ نہیں ، جو کچھ کفاءت کا اور پیشے کا لحاظ ہے وہ لڑکوں کی طرف سے ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ لڑکا اگر خان گھر کا ہے اور لڑکی انصاری برادری کی ہے اور لڑکی اس کے ساتھ نکاح پر راضی ہے تو نکاح ہو جائے گا ۔ اسی طرح اگر لڑکی انصاری ہے اور لڑکا عرف ناس میں اس سے نیچی ذات کا ہے تو بھی اس کے والد کی رضامندی سے نکاح ہو سکتا ہے ۔ نیز لڑکی اگر راضی ہے کسی بھی مسلم لڑکے سے نکاح کرنے پر تو نکاح ہو جائے گا اس شرط پر کہ لڑکی کے گھر والے اس پر راضی ہوں۔ یہ مسئلہ اپنی جگہ پر شریعت کے اندر طے شدہ ہے اور تسلیم شدہ ہے اس پر کوئی کلام نہیں ۔ رہ گیا و ظیفہ تو آپ روزانہ سو مرتبہ پڑھیں : استغفراللہ ربی من کل ذنب واتوب الیہ یہ پندرہ دن تک پڑھیں ، پھر پندرہ دن کے بعد دو سو مرتبہ کرلیں ، پھر اگلے پندرہ دن کے بعد تین سو مرتبہ کرلیں، جب تین سو مرتبہ ہوجائے تو رک جائیں ۔ اس کے بعد جب تک مقصد پورا نہ ہوجائے، اس وقت تک روزانہ تین سو مرتبہ استغفار پڑھتی رہیں اور اول آخر ۳،۳ / مرتبہ درودشریف پڑھیں ، اس کے بعد اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں دعا کریں ، تاحصول مراد یہ وظیفہ جاری رکھیں، اور اللہ تعالی کی ذات پر بھروسہ رکھیں ان شاء اللہ مراد پوری ہوگی ۔ والله تعالى اعلم بالصواب کتبـــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارک پو ر 

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات