لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

کیا حمل کی وجہ سے حج میں تاخیر کی اجازت ہے

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

کیا حمل کی وجہ سے حج میں تاخیر کی اجازت ہے ؟

سوال : کیا حمل کی وجہ سے حج کی تاخیر کی اجازت ہے کہ اس سال نہ کرے اور آئندہ سال جب محرم دستیاب ہو تب کرے، جبکہ اس سال شوہر بھی حج کو جا رہا ہے لیکن ایام حج یا اس کے قریب میں وضع حمل کا امکان ہے اور عورت کو وضع حمل بذریعہ آپریشن ہی ہوتا ہے اور یہ پانچواں حمل ہے الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ یہ میاں بیوی حج کمیٹی کے نام ایک درخواست کے ذریعے اپنا عذر بیان کرکے اپنا سفر آخری فلائٹ سے کرا لیں تاکہ آپریشن کے بعد عورت اس وقت تک ٹھیک ہو کر سفر حج پر جا سکے، اور اگر ظن غالب ہو کہ آخری فلائٹ تک بھی صحت یاب ہوکر سفر کے لائق نہ ہوسکے گی تو معذور ہے، اور یہ غذر بھی اس کا اپنا اختیاری نہیں اس لئے بوجہ مجبوری اس سال حج کو نہ جانے پر گنہگار نہ ہوگی ۔ یہ حاملہ، ولادت کی ماہر لیڈی ڈاکٹر سے سمجھ لے وہ پیدائش کا جو وقت بتائے اس کے لحاظ سے وہ ماہر سرجن سے مشورہ کر کے آخری فلائٹ تک سفر حج کو جا سکتی ہے کہ نہیں ۔ پھر اس فیصلہ کے مطابق رکے یا حج کو جائے ۔ حج کمیٹی میں لیڈی ڈاکٹر اور سرجن دونوں کی صلاح تحریری طور پر پیش کرے تو اس عذر معقول کی وجہ سے اس کے سفر کا شیڈول بدل سکتا ہے یا منسوخ ہو سکتا ہے ۔ فقہا فرماتے ہیں ” الضرورات تبیح المحظورات ” مجبوری کے حالات ممنوع چیزوں کو مباح بنادیتے ہیں ۔ واللہ تعالی اعلم ۔ کتبہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات