بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2500 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
کسی ہندو کے پیسے سے حج ہوگا یا نہیں ؟
سوال : ایک غیر مسلم مالدار نے منت مانی کہ اگر میری مراد پوری ہو جائے گی تو میں ایک مسلمان کو حج کراؤں گا، اب مراد پوری ہو جانے پر وہ ایک مسلمان کو حج کرانا چاہتا ہے تو کیا اس کے پیسے سے حج کر سکتے ہیں؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ہاں، غیر مسلم کے دیئے ہوئے روپے، پیسے سے حج کر سکتے ہیں۔ حج کے فرائض،ارکان، واجبات اور سنن و مستحبات سب مسلمان ادا کرتا ہے اور مسلمان ان عبادات کے ادائیگی کا اہل ہے ۔ اصل عبادت میں کہیں بھی غیر مسلم شریک نہیں ہے اس لیے بلاشبہ اس کا حج صحیح و درست ہے ۔ البتہ بہتر یہ ہے کہ وہ غیر مسلم جس کی مراد پوری ہوئی ہے حج کے لئے جس مقدار میں روپے خرچ ہوں گے اس سے کچھ زائد کسی مسلمان کو دے کر مالک بنا دے پھر وہ اس سے حج کرے۔ اگر دوسری شرط نہیں پائی جاتی ہیں تو وہ حج مقبول بھی ہو گا ۔ و اللہ تعالی اعلم کتبہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ