بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2496 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
ایک ملک میں روزہ پوراکرکے گھر پہنچا تو رمضان کا مہینہ باقی تھا اب کیا کرے ؟
سوال : سعودیہ میں ملازمت کرنے والے وہاں روزے پورے کرکے عید کرنے اپنے وطن چلے آتے ہیں ایسا بھی ہوتا ہے کہ یہاں کے لوگ تیسواں روزہ رکھتے ہیں اور سعودیہ سے آنے والا تیس روزے پورے کر چکا ہوتا ہے تو اب وہ کیا کرے؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــ وہ بھی لوگوں کے ساتھ تیسواں روزہ رکھے ۔ قرآن حکیم میں مطلقا یہ حکم دیا گیا ” فمن شھد منکم الشھر فلیصمہ ” تم میں سے جو رمضان کا مہینہ پائے وہ روزہ رکھے ۔ اور سعودیہ سے آنے والے نے یقینا یہاں رمضان کا مہینہ پایا ،لہذا اس پر تیسواں روزہ رکھنا فرض ہے ۔ واللہ تعالی اعلم کتبہ :مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ