لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

ماڈل بننا اور لوگوں کو اپنی چال ڈھال اور لباس سے راغب کرنا کیسا ہے؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

ماڈل بننا اور لوگوں کو اپنی چال ڈھال اور لباس سے راغب کرنا کیسا ہے؟

سوال: کیا حکم ہے شریعت کا اس بارے میں کہ جو لوگ فیشن شوز میں ماڈلنگ کرتے ہیں کپڑے وغیرہ یا دیگر کمپنیوں کے لیے ماڈلنگ کرنے کے لیے پروموٹ کرتے ہیں اس میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں شریک ہوتے ہیں ان کا اس طرح شریک ہونا یعنی ماڈل بننا اور لوگوں کو اپنی چال ڈھال اور لباس سے راغب کرنا کیسا ہے؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــ لڑکیوں کا ماڈل بننا اور بنانا اور ان کو ذریعہ بنا کر سامان بیچنا اور اس کو فروغ دینا تو سراسر حرام وہ گناہ ہے ۔ رہ گیا لڑکوں کو اس کام کے لیے استعمال کرنا تو اگر اس میں کوئی ایسا طریقہ اختیار نہیں کیا جاتا جو شریعت کے خلاف ہوں بس ان کو مخصوص قسم کا لباس پہنا کر ان کے ذریعے اشتہار کرایا جاتا ہے تاکہ لوگ اس طرف راغب ہوں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہونا چاہیے ۔ اور اگر انہیں ایسا کوئی لباس پہنایا جاتا ہے جو شریعت طاہرہ کے خلاف ہو جیسے ہاف پینٹ، چڈی وغیرہ تو اس کی نمائش لڑکوں کے ذریعے بھی حرام ہے ۔ یا لڑکے اور لڑکی کے اختلاط کے ساتھ نمائش کرائی جاتی ہے ، یا لڑکے کو ایسا لباس پہنا کر اس سے کوئی مخصوص حرکت کرائی جاتی ہے جس سے لڑکیاں اس کی طرف راغب ہوں یا کوئی لڑکی اس کی طرف مائل ہوتی ہے یا اس طرح کی کوئی بھی نمائش یا اشتہار ہو تو وہ ناجائز و گناہ ہے ۔ واللہ تعالی اعلم ۔ کتبــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات