لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

دکان و مکان اور سامانوں کا انشورنس کرانا کیسا ہے؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

فسادات کے ڈر سے جان، دکان و مکان اور سامانوں کا انشورنس کرانا کیسا ہے؟

الجوابــــــــــــــــــــــــــــ یہاں دو چیزیں ہیں ۔
  • لائف انشورنس
  • جنرل انشورنس
لائف انشورنس یعنی ایل آی سی یہ کبھی جائز ہوتا ہے اور کبھی ناجائز، اس کی تفصیل یہ ہے کہ جس کے نام سے انشورنس ہو رہا ہے اس کو اپنی آمدنی اور دولت پر پورا اعتماد ہو کہ وہ کم از کم تین سالوں کی پوری قسطیں ادا کر دے گا اس کی ایک قسط بھی ناغہ نہ ہوگی تو ایسے شخص کو لائف انشورنس کرانا جائز ہے ۔ اور اگر کسی کو قرائن کی بنا پر شبہ ہو کہ اس کی مالی حالت خراب ہو سکتی ہے اور اس کی ایک قسط بھی ناغہ ہو سکتی ہے تو ایسے شخص کو لائف انشورنس کرانا ناجائز ہے ۔ تین سال کی قید اس لئے ہے کہ لائف انشورنس کمپنی کا قانون یہ ہے کہ تین سال تک کی سب قسطیں جمع ہونا ضروری ہے، ایک قسط بھی ناغہ ہوگئی تو جمع شدہ سارا مال کمپنی ضبط کرلے گی ۔ لیکن اگر کبھی یہ قانون بدل کر تین سال کے بجائے ایک سال یا کم و بیش ہو جائے تو جواز کا حکم ایک سال یا کم و بیش سے مشروط ہو گا، اور اگر فرض کیجئے کہ کبھی قانون ہی ختم کر دیا جائے تو پھر سرے سے یہ شرط ہی نہ رہے گی ۔
  • جنرل انشورنس کرانا ناجائز ہے مگر جن علاقوں میں فسادات وغیرہ زیادہ ہوتے ہیں وہاں پر دکان و مکان اور سامانوں کا
انشورنس کرا سکتے ہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۔ کتبــــــــــــــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات