دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #249
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
بینک کی نوکری اور تنخواہ کا شرعی حکم
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: August 12, 2026
0
13,239
سوال (Question):
کیا سودی بینک میں کلرک یا مینیجر کی نوکری کرنا جائز ہے؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
روایتی (سودی) بینک میں ایسی نوکری جس کا براہِ راست تعلق سودی کھاتوں، قرضوں یا رسیدوں کے لکھنے سے ہو، وہ حرام ہے اور اس کی تنخواہ بھی حرام ہے۔ صفائی والے یا گارڈ کی نوکری مکروہ ہے۔ واللہ اعلم۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat