بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2487 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
مرغی کا چمڑا کھانا جائز ہے یا نہیں ؟
سوال : مارکیٹ میں مرغی ذبح کرنے کے فورا بعد پانی ڈال دیتے ہیں جس کی وجہ سے اسکا پر آسانی کے ساتھ نکل جاتا ہے اور پھر لوگ چمڑے کے ساتھ اس کا گوشت کھا جاتے ہیں اس بارے میں حکم شرع کیا ہے ہے؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــ مرغ کو ذبح کرنے کے بعد عام طور پر جو یہ طریقہ پایا جاتا ہے کہ اسے کھولتے پانی میں ڈال دیا جاتا ہے ایسا نہیں کرنا چاہیے، بلکہ شرعی حکم کا احترام کرتے ہوئے یہ طریقہ اپنانا چاہیئے کہ گرم پانی میں ڈالنے سے پہلے پیٹ چاک کرکے غلاظت وغیرہ نکال دیں اور بدن پر لگی نجاست صاف کر دیں اور محل ذبح پر جو خون لگا ہوا ہے اسے دھو کر گرم پانی میں ڈالیں اور تھوڑی دیر بعد نکال کر پر صاف کر دیں تو اس کو کھال کے ساتھ کھانا جائز ہے اور اس میں کوئی کراہت اور قباحت نہیں، ہاں بغیر نجاست دور کئے اور صاف کئےاس کو پانی میں ڈال دیا تو اب اس مرغ کا سارا بدن اوپر سے ناپاک ہو جاتا ہے اس وجہ سے اسے بغیر دھوئے کھال کے ساتھ کھانا ناجائز ہے کہ یہ ناپاک کھال کو کھانا ہوگا. جب کھال ناپاک ہے تو اس کی وجہ سے شوربا، پھر گوشت بھی ناپاک ہوگا کہ ناپاک پانی گوشت کے اندر سرایت کر جائے گا. ہاں اگر پہلے تین بار دھو کرپاک کر لیں پھر پکائیں تو کھال کے ساتھ بھی کھانا حلال ہوگا ۔ واللہ تعالی اعلم ۔ کتبہ :مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ