صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

دارالافتاء
اہل سنت

MASAIL WORLD

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat

www.masailworld.com

مسائل ورلڈ

دارالافتاء اہل سنت

Fatwa #2486 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)

مری ہوئ مچھلی کھانا کیوں حلال ہے ؟ / مری ہوئی مچھلی کی وجہ ؟

سائل (Questioner): دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat تاریخ: September 18, 2025
0 13,570

سوال (Question):

مری ہوئ مچھلی کھانا کیوں حلال ہے ؟ / مری ہوئی مچھلی کی وجہ ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

مری ہوئ مچھلی کھانا کیوں حلال ہے ؟

سوال : مردار کھانا اسلام میں حرام ہے جب کہ مچھلی ہم مری ہوئی کھاتے ہیں اس میں کیا حکمت ہے؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــ مری ہوئی مچھلی کیوں حلال ہے تو یہ اللہ جانے اور اللہ کے رسول جانیں، ہمارے لیے تو حدیث پاک حجت ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ” احلت لنا میتتان السمک والجراد ” ہمارے لیے دو مردار حلال کئے گئے ایک مچھلی اور دوسری ٹڈی لہذا حضور نے جو فرمایا اس پر ہمارا ایمان ہے ۔ حکمت یہ ہوسکتی ہے کہ دوسرے جانور جنہیں ذبح کرنے کا حکم دیا گیا ہے ان کے اندر بہتا ہوا خون پایا جاتا ہے اور بہتے ہوئے خون میں یورک ایسڈ یعنی تیزابی مادہ پایا جاتا ہے، اس کو کھانے سے تیزابی کیفیت پیدا ہو گی جس سے بیماریاں پیدا ہو نگی اور جسم کے جوڑوں میں درد ہوگا ۔ اس لیے حکم ہے کہ ان کو ذبح کرکے خون بہا دیا جائے اور مچھلی میں کوئی خون پایا نہیں جاتا جس میں یورک ایسیڈ ہو یا تیزابی کیفیت ہو جو نقصان دہ ہوں اس لیے مچھلی کو ذبح کرنے کی ضرورت نہیں یہی حال ٹڈی کا بھی ہے ۔ واللہ تعالی اعلم ۔ کتبہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat