لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

سرکاری بینک سے ملنے والے منافع کا حکم از مفتی نظام الدین رضوی

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

سرکاری بینک سے ملنے والے منافع کا حکم

سوال : ہندوستان کے گورنمنٹی بینکوں اور مسلم ممالک کے گورنمنٹی بینکوں سے جو منافع ملتے ہیں ان کا لینا اور استعمال کرنا کیسا ہے؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــ ہندوستان کے گورنمنٹی بینکوں میں روپے جمع کرنے پر جو منافع ملتے ہیں وہ مباح ہیں ۔خواہ سیونگ اکاؤنٹ میں جمع ہو یا کرنٹ اکاؤنٹ میں فکس ڈیپوزٹ یا آر ڈی میں، نفع تھوڑا ہو یا زیادہ کسی صورت میں یہ سود نہیں بلکہ یہ جائز و حلال ہے ۔ اسے لے سکتے ہیں اور اپنے کاروبار میں بھی لگا سکتے ہیں، لیکن بہتر یہ ہے کہ اسے لے کر مسجد، مدارس، تبلیغی کاموں اور غرباء و مساکین میں خرچ کرے ۔ رہ گیا وہ نفع جو مسلم ممالک کے بینکوں میں روپے جمع کرنے پر ملتا ہے وہ سود ہے، اسے لینا ناجائز و حرام ہے مگر یہ کہ وہ نفع عقد شرکت یا عقد مضاربت کا ہو ۔ واللہ تعالی اعلم کتبہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپو ر

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات