بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2485 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
سرکاری بینک سے ملنے والے منافع کا حکم
سوال : ہندوستان کے گورنمنٹی بینکوں اور مسلم ممالک کے گورنمنٹی بینکوں سے جو منافع ملتے ہیں ان کا لینا اور استعمال کرنا کیسا ہے؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــ ہندوستان کے گورنمنٹی بینکوں میں روپے جمع کرنے پر جو منافع ملتے ہیں وہ مباح ہیں ۔خواہ سیونگ اکاؤنٹ میں جمع ہو یا کرنٹ اکاؤنٹ میں فکس ڈیپوزٹ یا آر ڈی میں، نفع تھوڑا ہو یا زیادہ کسی صورت میں یہ سود نہیں بلکہ یہ جائز و حلال ہے ۔ اسے لے سکتے ہیں اور اپنے کاروبار میں بھی لگا سکتے ہیں، لیکن بہتر یہ ہے کہ اسے لے کر مسجد، مدارس، تبلیغی کاموں اور غرباء و مساکین میں خرچ کرے ۔ رہ گیا وہ نفع جو مسلم ممالک کے بینکوں میں روپے جمع کرنے پر ملتا ہے وہ سود ہے، اسے لینا ناجائز و حرام ہے مگر یہ کہ وہ نفع عقد شرکت یا عقد مضاربت کا ہو ۔ واللہ تعالی اعلم کتبہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپو ر
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ