صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

دارالافتاء
اہل سنت

MASAIL WORLD

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat

www.masailworld.com

مسائل ورلڈ

دارالافتاء اہل سنت

Fatwa #2485 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)

سرکاری بینک سے ملنے والے منافع کا حکم از مفتی نظام الدین رضوی

سائل (Questioner): دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat تاریخ: September 18, 2025
0 13,464

سوال (Question):

سرکاری بینک سے ملنے والے منافع کا حکم از مفتی نظام الدین رضوی

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

سرکاری بینک سے ملنے والے منافع کا حکم

سوال : ہندوستان کے گورنمنٹی بینکوں اور مسلم ممالک کے گورنمنٹی بینکوں سے جو منافع ملتے ہیں ان کا لینا اور استعمال کرنا کیسا ہے؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــ ہندوستان کے گورنمنٹی بینکوں میں روپے جمع کرنے پر جو منافع ملتے ہیں وہ مباح ہیں ۔خواہ سیونگ اکاؤنٹ میں جمع ہو یا کرنٹ اکاؤنٹ میں فکس ڈیپوزٹ یا آر ڈی میں، نفع تھوڑا ہو یا زیادہ کسی صورت میں یہ سود نہیں بلکہ یہ جائز و حلال ہے ۔ اسے لے سکتے ہیں اور اپنے کاروبار میں بھی لگا سکتے ہیں، لیکن بہتر یہ ہے کہ اسے لے کر مسجد، مدارس، تبلیغی کاموں اور غرباء و مساکین میں خرچ کرے ۔ رہ گیا وہ نفع جو مسلم ممالک کے بینکوں میں روپے جمع کرنے پر ملتا ہے وہ سود ہے، اسے لینا ناجائز و حرام ہے مگر یہ کہ وہ نفع عقد شرکت یا عقد مضاربت کا ہو ۔ واللہ تعالی اعلم کتبہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپو ر

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat