دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #2484
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
مسلمانوں کے پرائیویٹ بینک سے جو فائدہ ملتا ہے اس کا لینا جائز کیسا ہے؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
13,304
سوال (Question):
مسلمانوں کے پرائیویٹ بینک سے جو فائدہ ملتا ہے اس کا لینا جائز کیسا ہے؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
مسلمانوں کے پرائیویٹ بینک سے جو فائدہ ملتا ہے اس کا لینا جائز کیسا ہے؟
سوال : ہندوستان میں مسلمانوں کے جو پرائیویٹ بینک ہیں ان سے جو فائدہ ملتا ہے اس کا لینا جائز ہے یا نہیں؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــ یہ ناجائز ہے، اگر صورت یہ ہے کہ اس نے بینک کو روپیہ دیا اس لیے بینک نے نفع دیا تو یہ ناجائز ہے ۔ لیکن اگر وہ اس روپے سے کاروبار کریں اور یہ کہیں کہ ہم نے آپ کے روپے شرکت کے طور پر کاروبار میں لگا دیے ہیں اور نفع میں 4 فیصد یا کم و بیش آپ کی شرکت ہوگی اور نقصان میں آپ کے مال کے تناسب سے شرکت رہے گی ، تو اب اس میں جو بھی نفع ہوگا اس میں دونوں طے شدہ فیصد کے لحاظ سے شریک رہیں گے ۔ اور نقصان کی صورت میں اپنے مال کے تناسب سے شریک رہیں گے، لیکن آجکل بینکوں کا جو سسٹم ہے اگر اس طور سے نفع دیتے ہیں تو یہ ناجائز وحرام ہے کہ یہ سود ہے ۔ واللہ تعالی اعلم ۔ کتبہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat