بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2482 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
روم یا گھر کی دلالی یعنی کمیشن پر کام کرنا کیسا ہے؟
الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــــ اگر دونوں فریق یعنی لینے والے اور دینے والے یہ جانتے ہیں کہ جو آدمی بیچ میں کام کر رہا ہے وہ کمیشن لیتا ہے اور کمیشن کی مقدار بھی معلوم و متعین ہو تو ایسی صورت میں یہ معاملہ جائز و درست ہے، لیکن اس کے لیے شرط یہ ہے کہ دلال کچھ خرچ بھی کرے، اپنا کچھ وقت صرف کرے، کچھ دوڑ دھوپ کرے. اگر کوئی گھر بیٹھے فریقین سے ٹیلیفون یا موبائل کے ذریعے رابطہ کر کے معاملات طے کرے تو وہ بھی اجرت کا حقدار ہے کہ اس نے اس کے لئے وقت بھی صرف کیا اور موبائل وغیرہ سے رابطہ کرکے کچھ مال بھی خرچ کیا اور اگر وہ صرف مشورہ دے تو اس کا پیسہ نہیں لے سکتا یہ گالی نہیں ہے ۔ واللہ تعالی اعلم ۔ کتبہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپو ر
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ