صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

دارالافتاء
اہل سنت

MASAIL WORLD

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat

www.masailworld.com

مسائل ورلڈ

دارالافتاء اہل سنت

Fatwa #2482 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)

روم یا گھر کی دلالی یعنی کمیشن پر کام کرنا کیسا ہے؟

سائل (Questioner): دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat تاریخ: September 18, 2025
0 13,093

سوال (Question):

روم یا گھر کی دلالی یعنی کمیشن پر کام کرنا کیسا ہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

روم یا گھر کی دلالی یعنی کمیشن پر کام کرنا کیسا ہے؟

الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــــ اگر دونوں فریق یعنی لینے والے اور دینے والے یہ جانتے ہیں کہ جو آدمی بیچ میں کام کر رہا ہے وہ کمیشن لیتا ہے اور کمیشن کی مقدار بھی معلوم و متعین ہو تو ایسی صورت میں یہ معاملہ جائز و درست ہے، لیکن اس کے لیے شرط یہ ہے کہ دلال کچھ خرچ بھی کرے، اپنا کچھ وقت صرف کرے، کچھ دوڑ دھوپ کرے. اگر کوئی گھر بیٹھے فریقین سے ٹیلیفون یا موبائل کے ذریعے رابطہ کر کے معاملات طے کرے تو وہ بھی اجرت کا حقدار ہے کہ اس نے اس کے لئے وقت بھی صرف کیا اور موبائل وغیرہ سے رابطہ کرکے کچھ مال بھی خرچ کیا اور اگر وہ صرف مشورہ دے تو اس کا پیسہ نہیں لے سکتا یہ گالی نہیں ہے ۔ واللہ تعالی اعلم ۔ کتبہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپو ر

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat