لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

گولی سے مارے ہوے جانور کو کھانا کیسا ہے ؟ از مفتی نظام الدین رضوی

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

گولی سے مارے ہوے جانور کو کھانا کیسا ہے ؟

سوال : افریقہ کے علاقہ میں جب بڑے جانور ذبح کرتے ہیں تو وہاں لوکل لوگ (بلیک پاپولیشن) پہلے اس کو شوٹ کرتے ہیں، گولی مارتے ہیں جس سے وہ گر جاتا ہے اور کمزور ہو جاتا ہے اور بے ہوش بھی ہو جاتا ہے ایسے جانور کا گوشت کھانا کیسا ہے؟ الجوابـــــــــــــــــــــــ ایسا کرنا نا جائز اور باعث گناہ ہے، کیونکہ یہ بلاوجہ جانور کو زیادہ تکلیف پہنچانا ہے ۔فقہاء کرام فرماتے ہیں کہ جانوروں پر ظلم کرنا مسلم ریاست کے غیر مسلم پر ظلم کرنے سے زیادہ سخت ہے۔ اور ایسے غیر مسلم پر ظلم کرنا مسلم پر ظلم کرنے سے بڑھ کر ہے ۔ تو یہ بہت بھیانک ظلم ہے اگر کوئی مسلمان ایسا کرتا ہے تو وہ اس سے مجمع مسلمین میں توبہ کرے اور آئندہ ہرگز ہرگز ایسا نہ کرے ۔ رہ گئی یہ بات کہ جانور حلال ہے یا نہیں تو عرض ہے کہ اگر شوٹ کرنے کے بعد وہ جانور زندہ رہا اور صرف بے ہوش ہوا ہے مرا نہیں اور ایسے وقت میں کسی مسلمان نے ” بسم اللہ اللہ اکبر” کہہ کر ذبح کر دیا تو وہ ذبیحہ حلال ہے ۔ اور اس کا گوشت پاک و حلال ہے اور اگر ایسا نہ ہوا تو حرام ہے ۔ واللہ تعالی اعلم کتبــــــــــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات