بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2473 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
جھینگا کھانا کیسا ہے؟ ازمفتی نظام الدین رضوی
الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــ جھینگا مچھلی ہے یا نہیں، اس بارے میں پرانے زمانے سے حکیموں کے درمیان اختلاف ہے۔ کچھ لوگوں کی تحقیق ہے کہ وہ مچھلی ہے اور کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ مچھلی نہیں ہے، اب اس اختلاف کے سبب علماء اور فقہاء کہتے ہیں کہ جب اس کے مچھلی ہونے میں شبہ ہو گیا تو اس سے بچنا چاہیے ۔ دریائی جانوروں میں صرف مچھلی حلال ہے اور باقی جانور حرام ہیں ۔ اب اگر جھینگا واقع میں مچھلی ہے مگر کچھ اطباء کے اختلاف کی وجہ سے اس میں شبہ پیدا ہو گیا تو اس لیے اس سے بچنا بہتر ہے ۔ اگر کوئی کھانا چاہے تو کھا سکتا ہے اس کو حرام نہیں کہا جائے گا ہاں یہ مکروہ تنزیہی اور خلاف اولیٰ ہوگا ۔ واللہ تعالی اعلم کتبہ :مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ