صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

دارالافتاء
اہل سنت

MASAIL WORLD

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat

www.masailworld.com

مسائل ورلڈ

دارالافتاء اہل سنت

Fatwa #2471 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)

کیا کافر کو قرض دے کر اس سے سود لے سکتے ہیں ؟

سائل (Questioner): دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat تاریخ: September 18, 2025
0 5,478

سوال (Question):

کیا کافر کو قرض دے کر اس سے سود لے سکتے ہیں ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

کیا کافر کو قرض دے کر اس سے سود لے سکتے ہیں ؟

سوال : کیا کافر کو قرض دے کر اس سے زیادہ لینا جائز ہے جبکہ مومن سے نہیں ۔ اور یہ معلوم نہیں کہ وہ کونسا کافر ہے، حربی، ذمی یا مستامن، اس مسئلے کی وضاحت فرمائیں؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــــــ یہاں ہندوستان میں حربی، ذمی اور مستامن کی کوئی قید نہیں ہے، یہاں کے غیر مسلموں کے مذہب میں سود جرم یا گناہ نہیں ہے وہ سود کو غیر قانونی نہیں مانتے ہیں وہ دیتے بھی ہیں اور لیتے بھی ہیں. ان کے ساتھ دھوکا، فریب، غدر حرام و گناہ ہے لہذا فریب دے کر ان سے کچھ بھی نہیں لے سکتے لیکن اگر آپ نے انہیں قرض دیا اور وہ اپنی مرضی سے کسی دباؤ میں آئے بغیر آپ کو کچھ دے دیں تو لے سکتے ہیں مثلا آپ نے کسی غیر مسلم کو ایک ہزار روپے دیئے اب وہ اس پر پانچ، دس روپے اضافہ کے ساتھ دے رہا ہے یا 100 اضافہ کرکے دے رہا ہے تو یہ آپ کے لئے جائز و درست ہے ۔ واللہ تعالی اعلم ۔ کتبـــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat