دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #2469
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
مرے ہوئے آدمی کا فوٹو رکھا تو گناہ رکھنے والے کا ہے یا پھر جس کی تصویر؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
5,161
سوال (Question):
مرے ہوئے آدمی کا فوٹو رکھا تو گناہ رکھنے والے کا ہے یا پھر جس کی تصویر؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
مرے ہوئے آدمی کا فوٹو رکھا تو گناہ رکھنے والے کا ہے یا پھر جس کی تصویر؟
الجوابــــــــــــــــــــــ ادب و احترام سے فوٹو رکھنا حرام و گناہ ہے ۔ رہ گئی یہ بات کہ گناہ مردے اور رکھنے والے میں سے کس پر ہوگا تو اس میں تفصیل ہے ، اگر اس آدمی نے اپنی مرضی سے کھنچوایا تھا اور وہ اس پر راضی تھا کہ اس کی تصویر رکھی جائے اور اس کے فوٹو کی حفاظت کی جائے ،تو فوٹو کھنچوانے کا گناہ اور رکھوانے کا گناہ مردے کے اوپر گا اور عزت سے تصویر رکھنے کا گناہ رکھنے والے پر ہوگا ۔ اور اگر مردہ اس سے راضی نہیں تھا کسی نے کھینچ لیا ہے اور اپنے پاس رکھے ہوئے ہے تو اس صورت میں فوٹو کھینچنے اور اس کو حفاظت سے رکھنے کا گناہ صرف اس آدمی پر ہوگا جس نے اس کا فوٹو کھینچا اور احترام کی جگہ رکھا، مردے پر کوئی گناہ نہیں ہوگا ۔ واللہ تعالی اعلم کتبــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat