لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

مرے ہوئے آدمی کا فوٹو رکھا تو گناہ رکھنے والے کا ہے یا پھر جس کی تصویر؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

مرے ہوئے آدمی کا فوٹو رکھا تو گناہ رکھنے والے کا ہے یا پھر جس کی تصویر؟

الجوابــــــــــــــــــــــ ادب و احترام سے فوٹو رکھنا حرام و گناہ ہے ۔ رہ گئی یہ بات کہ گناہ مردے اور رکھنے والے میں سے کس پر ہوگا تو اس میں تفصیل ہے ، اگر اس آدمی نے اپنی مرضی سے کھنچوایا تھا اور وہ اس پر راضی تھا کہ اس کی تصویر رکھی جائے اور اس کے فوٹو کی حفاظت کی جائے ،تو فوٹو کھنچوانے کا گناہ اور رکھوانے کا گناہ مردے کے اوپر گا اور عزت سے تصویر رکھنے کا گناہ رکھنے والے پر ہوگا ۔ اور اگر مردہ اس سے راضی نہیں تھا کسی نے کھینچ لیا ہے اور اپنے پاس رکھے ہوئے ہے تو اس صورت میں فوٹو کھینچنے اور اس کو حفاظت سے رکھنے کا گناہ صرف اس آدمی پر ہوگا جس نے اس کا فوٹو کھینچا اور احترام کی جگہ رکھا، مردے پر کوئی گناہ نہیں ہوگا ۔ واللہ تعالی اعلم کتبــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات