بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2467 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
جس کھانے میں شبہ ہو اس کو بسم اللہ پڑھ کر کھانا
سوال : زید ہمیشہ سفر میں رہتا ہے جس کی وجہ سے وہ ہوٹلوں میں کھانا کھاتا ہے، ہوٹل کے گوشت میں اس کو شبہ رہتا ہے کہ حلال ہے یا حرام تو کیا اس کو بسم اللہ پڑھ کر کھا سکتا ہے؟ الجوابـــــــــــــــــــ بسم اللہ پڑھ کر تو ہر چیز کھانی چاہیے ، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ جو کھانا حرام ہے وہ بسم اللہ پڑھ لینے سے حلال ہوجائے گی ،بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ جان بوجھ کر حرام کھانے پر بسم اللہ پڑھنا حرام ہے اور کسی نے حرام کو حلال جان کر بسم اللہ پڑھ دیا تو کفر بھی ہو جائے گا، اب اگر معلوم ہے کہ اس ہوٹل کا مالک سنی صحیح العقیدہ ہے اور اس کے کارندے بھی اسی طرح کے ہیں ان پر بد عقیدگی اور بدمذہبیت وغیرہ کی نشانیاں نہیں پائی جاتی ہیں تو ایسی صورت میں اس ہوٹل سے گوشت کھا سکتے ہیں اس میں کوئی حرج نہیں ۔ فتوی جواز کا ہے مگر تقوی احتراز کا ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۔ کتبـــــــــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ