دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #2465
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
کیا انٹرسٹ کا پیسہ غریبوں میں تقسیم کر سکتے ہیں؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
4,736
سوال (Question):
کیا انٹرسٹ کا پیسہ غریبوں میں تقسیم کر سکتے ہیں؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
کیا انٹرسٹ کا پیسہ غریبوں میں تقسیم کر سکتے ہیں؟
الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــ ہاں تقسیم کرسکتے ہیں بلکہ تقسیم کرنا ہی چاہئے، اس لئے کہ انٹرسٹ کا مال جو ہوتا ہے اس کو غرباء، مساکین اور اسی طریقے سے دیگر رفاہی کام کرنے والوں کو اگر دیا جائے تو علماء کے نزدیک یہ زیادہ بہتر ہے ۔ حکومت ہند کے بینکوں سے جو زائد رقم ملتی ہے وہ سود قطعاً نہیں بلکہ مال مباح ہے ۔ لہذا اسے غریبوں، محتاجوں میں تقسیم کرنا ضرور جائز ہے بلکہ اعلی حضرت رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے لکھا ہے کہ افضل یہی ہے اور زیادہ ثواب اسی میں ہے کہ حاصل شدہ رقم فقراء اور محتاجوں میں تقسیم کر دی جائے ۔ واللہ تعالی اعلم کتبـــــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat