بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2465 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
کیا انٹرسٹ کا پیسہ غریبوں میں تقسیم کر سکتے ہیں؟
الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــ ہاں تقسیم کرسکتے ہیں بلکہ تقسیم کرنا ہی چاہئے، اس لئے کہ انٹرسٹ کا مال جو ہوتا ہے اس کو غرباء، مساکین اور اسی طریقے سے دیگر رفاہی کام کرنے والوں کو اگر دیا جائے تو علماء کے نزدیک یہ زیادہ بہتر ہے ۔ حکومت ہند کے بینکوں سے جو زائد رقم ملتی ہے وہ سود قطعاً نہیں بلکہ مال مباح ہے ۔ لہذا اسے غریبوں، محتاجوں میں تقسیم کرنا ضرور جائز ہے بلکہ اعلی حضرت رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے لکھا ہے کہ افضل یہی ہے اور زیادہ ثواب اسی میں ہے کہ حاصل شدہ رقم فقراء اور محتاجوں میں تقسیم کر دی جائے ۔ واللہ تعالی اعلم کتبـــــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ