دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #2461
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
نشے کی حالت میں طلاق دینے سے طلاق ہوتی ہے یا نہیں ؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
6,273
سوال (Question):
نشے کی حالت میں طلاق دینے سے طلاق ہوتی ہے یا نہیں ؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
نشے کی حالت میں طلاق دینے سے طلاق ہوتی ہے یا نہیں ؟
سوال: زید نے اپنی بیوی کو نشے کی حالت میں طلاق دے دی ہے اور اس بات کا وہ اور اس کی بیوی اقرار بھی کررہے ہیں ۔ اس پر کچھ مولوی حضرات یہ راستہ نکالا کہ زید نے رات کی تنہائی میں طلاق دیا ہے اس وقت کوئی گواہ نہیں تھا لہذا طلاق نہیں ہوئی ۔ اس سلسلےمیں حکم شرع کیا ہے واضح فرمائیں؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ایسا نہیں ہے اور کوئی سنی مولوی ایسا نہیں کہے گا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ زید نے نشے کی حالت میں جو طلاق دی ہے وہ پڑ گئی ۔ کوئی بھی شوہر نشے کی حالت میں طلاق دے ، تنہائی، یا مجمع، حتیٰ کہ اگر بیوی کو بھی اس کا علم نہ ہو تو بھی طلاق پڑجائے گی، کیونکہ طلاق دینے کا مکمل اختیار شوہر کو ہے ۔ شوہر کے قبضے میں ہی نکاح کی گرہ ہے ۔ وہ جب چاہے نکاح کی گرہ کھول دے ۔ والله تعالى اعلم بالصواب کتبــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارک پور
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat