بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2461 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
نشے کی حالت میں طلاق دینے سے طلاق ہوتی ہے یا نہیں ؟
سوال: زید نے اپنی بیوی کو نشے کی حالت میں طلاق دے دی ہے اور اس بات کا وہ اور اس کی بیوی اقرار بھی کررہے ہیں ۔ اس پر کچھ مولوی حضرات یہ راستہ نکالا کہ زید نے رات کی تنہائی میں طلاق دیا ہے اس وقت کوئی گواہ نہیں تھا لہذا طلاق نہیں ہوئی ۔ اس سلسلےمیں حکم شرع کیا ہے واضح فرمائیں؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ایسا نہیں ہے اور کوئی سنی مولوی ایسا نہیں کہے گا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ زید نے نشے کی حالت میں جو طلاق دی ہے وہ پڑ گئی ۔ کوئی بھی شوہر نشے کی حالت میں طلاق دے ، تنہائی، یا مجمع، حتیٰ کہ اگر بیوی کو بھی اس کا علم نہ ہو تو بھی طلاق پڑجائے گی، کیونکہ طلاق دینے کا مکمل اختیار شوہر کو ہے ۔ شوہر کے قبضے میں ہی نکاح کی گرہ ہے ۔ وہ جب چاہے نکاح کی گرہ کھول دے ۔ والله تعالى اعلم بالصواب کتبــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارک پور
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ