بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2457 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
ڈاکٹر نے پانی استعمال کرنے سے روک دیا تو کیا تیمم کرکے نمازپڑھ سکتا ہے؟
سوال :علماے کرام اس مسئلہ کے متعلق کیا فرماتے ہیں کہ ڈاکٹر نے پانی استعمال کرنے سے روک دیا تو کیا تیمم کرکے نماز وغیرہ پڑھ سکتا ہے ۔ بسم الله الرحمن الرحیم الجواب بعون الملک الوھاب: مریض کے لیے تیمم جائز ہونے کے لیے تین صورتیں ہیں ، ان میں سے ایک کا ہونا ضروری ہے ۔ یا تو ظاہر واضح روشن علامت ہو، یا صحیح تجربہ ہو کہ جب جب پانی استعمال کرتا ہے تو مرض بڑھ جاتا ہے یا ماہر مسلمان غیر فاسق ڈاکٹر نے پانی استعمال کرنے سے روک دیا ہو تو ان صورتوں میں تیمم کرکے نماز وغیرہ پڑھ سکتا ہے ۔ فتاوی ہندیہ میں ہے: ” ولو کان یجدالماء الا انہ مریض یخاف ان استعمل الماء اشتد مرضہ او ابطاء برؤہ تیمم ۔ ویعرف ذلک الخوف اما بغلبۃ الظن عن امارۃ او تجربۃ او اخبارطبیب حاذق مسلم غیر ظاھر فسق کذا فی شرح منیۃ المصلی لابراھیم الحلبی” اھ ملتقطا ۔ (الفتاوی الھندیہ : ج: 1، ص: 28، کتاب: الطھارۃ، باب: الرابع فی التیمم فصل الاول : منھا عدم القدرۃ علی الماء ) واللہ تعالیٰ اعلم ۔ عبدالقادر المصباحی الجامعی کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ مقام مہیپت گنج، ضلع گونڈہ، یو، پی، انڈیا ١٩ ربيع الآخر ١٤٤٣ھ
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ