لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

ایک مشت سے کم داڑھی رکھنا کیسا ہے ؟ کیا ایک مشت سے کم داڑھی ہوتی ہے ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

ایک مشت سے کم داڑھی رکھنا کیسا ہے ؟

سوال : کیا حکم ہے اس بارے میں کہ کچھ لوگ داڑھی بہت مختصر رکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ میری داڑھی ہے تو آخر داڑھی کسے کہتے ہیں؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــ یہ ان کی داڑھی تو ہوسکتی ہے لیکن ایک کامل مسلمان کی داڑھی نہیں ہوسکتی ہے ، ایک مومن کامل کی داڑھی تو وہی ہے جو پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور آپ کے طریقے کے مطابق ہو، اور آقا کا طریقہ یہ ہے کہ داڑھی کم از کم ایک مشت ہو اس سے زیادہ ہو تو کوئی حرج نہیں ، لیکن طویل فاحش نہ ہو کہ چہرہ بھیانک ہو جائے اور بچے دیکھیں تو ڈریں ۔ اگر داڑھی کٹانے سے ایک مشت سے کم ہوگی تو خلاف سنت ہے اور باعثِ گناہ ہے صحیح بخاری میں ہے عن ابن عباس عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال : خالفوا المشرکین، وفروا اللحی واحفوا الشوارب ،وکان ابن عمر اذا حج او اعتمر قبض علی لحیتہ فما فضل اخذہ حضرت ابن عباس اس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مشرکین کی مخالفت کرو، داڑھی بڑھاؤ اور مونچھیں پست کرو ۔ ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ جب حج یا عمرہ فرماتے تو اپنی داڑھی کو ایک مٹھی میں پکڑ لیتے اور جو بال مٹھی سے زائد ہوتے انہیں کم کر دیتے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جس کام کا حکم دے دیں وہ واجب ہوجاتا ہے ،اس لیے داڑھی بڑھانا واجب ہوا اور حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا عمل شاہد ہے کہ یہ وجوب ایک مشت کی حد تک ہے اور اس سے فاضل بال کاٹ دینا سنت ہے ۔ واللہ تعالی اعلم ۔ کتـــــــــبہ :مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات