بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2427 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
عورتوں کو لپسٹک لگانا کیسا ہے ؟
سوال : حضور میرا سوال ہے کہ عورتوں کو لپسٹک لگانا کیسا ہے کیا یہ شرعی طور سے حرام و گناہ ہے یا پھر اس کا کیا حکم ہے؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــ لپسٹک لگانا جائز ہے. سنا ہے کہ اس میں الکوہل کی آمیزش ہوتی ہے اس لئے بچنا بہتر ہے اور تحقیق سے یہ آمیزش ثابت ہو جائے تو اس کا استعمال حرام و گناہ ہے ۔ جائز اور خلاف اولیٰ ہونے کی صورت میں بھی یہ فرض ہے کہ جنبی اور بے وضو عورت اور وضو کے وقت اسے اچھی طرح چھڑا کر ہونٹ کو صاف کرلیں ورنہ وضو ہوگا نہ غسل، کیونکہ لپسٹک سے ہونٹ پر تہ بن جان جاتی ہے جس کے باعث وہاں پانی نہیں پہنچے گا تو وہ پاک بھی نہ ہوگا۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۔ کتبــــــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ