لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

کیا مساجد کا انشورنس کرانا جائز ہے؟ / مسائل ورلڈ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

کیا مساجد کا انشورنس کرانا جائز ہے؟

سوال: ماریشس کا یہ قانون ہے کہ مسجد میں کسی کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آ جائے مثلا پھسل کر یا اوپر سے گر کر مر جائے، یا اس کے اوپر کوئی چیز گر پڑے اور وہ ہلاک ہوجائے پھر اس کے اولیاء کورٹ میں چارہ جوئی کریں تو مسجد پر اس کی ہلاکت کی وجہ سے تاوان کی ادائیگی کا حکم ہوتا ہے، یہ رقم دس پندرہ لاکھ روپے تک ہوتی ہے یہ قانون بہت پہلے سے ہے لیکن اب تک کسی مسجد کے بارے میں کوئی ایسا فیصلہ نہیں ہوا ایسی صورت میں کیا مسجد کا انشورنس (Masjid ka Insurance ) کرانے کی اجازت ہے؟ وہاں دکانوں کا قانون یہی ہے اور دکانوں کا انشورنس کرانا ضروری ہے اگرخدانخواستہ مسجدوں کے لیے ایسا کوئی قانون آجائے تو کیا کرنا ہوگا؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــــ عموما لوگ مساجد میں احتیاط سے چلتے اور پھسلنے کی جگہوں پر نظر رکھتے ہیں، اس لئے پھسلنے کے باعث عام طور پر کوئی حادثاتی موت نہیں ہوتی پھر جب وہاں کبھی سوال میں درج قانون پر عمل نہ ہوا اور مسجد سے تاوان نہیں لیا گیا تو اس سے واضح ہوتا ہے کہ وہ قانون مسجد کی انتظامیہ کو باخبر رکھنے اور لوگوں کی حفاظت کا خیال رکھنے کے لیے ہے، وہ لازم العمل نہیں، اس لیے فی الحال وہاں پر مساجد کا انشورنس کرانا جائز نہیں، یہ فی الواقع قمار ہے جو حرام ہے ہاں اگر کبھی وہاں کی حکومت اسے لازم العمل قرار دے تو اس وقت انشورنس کرانا بوجہ ضرورت شرعیہ جائز ہو گا ۔ فقہاء فرماتے ہیں ” الضرورات تبیح المحظورات ” مسلمانوں کو چاہیے کہ استنجا خانے کے باہر اور وضو خانے کھردرے پتھر وغیرہ کا بنوائیں یا ایسی جگہوں پر پاؤں سے چپکنے والے پا پوش بچھا دیں تاکہ پھسلنے یا پھر ہلاک ہونے کا خطرہ ہی نہ رہے ۔ واللہ تعالی اعلم کتبــــــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات