بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2413 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
تعزیہ کا ڈھانچہ مسجد میں رکھنا کیسا ہے؟
سوال : ہمارے یہاں کی جامع مسجد دو منزلہ ہے پھر بھی جمعہ کی نماز میں مسجد تنگ پڑ جاتی ہے اس پر مزید یہ تعزیہ دار لوگ تعزیہ کا ڈھانچہ محرم گزر جانے کے بعد مسجد کی دوسری منزل پر رکھ دیتے ہیں اور وہ پورے سال اسی جگہ رکھا رہتا ہے، وہ ڈھانچہ بھی دو چار نمازیوں کی جگہ گھیرتا ہے تو ایسی تنگی کی صورت میں اس ڈھانچے کو مسجد میں رکھنا جائز ہے یا نہیں اور اگر اس کی وجہ سے تنگی نہ بھی ہو تو کیا حکم ہے؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــ تعزیہ کا ڈھانچہ مسجد میں رکھنا حرام و گناہ ہے، چاہے نیچے کی منزل میں رکھیں یا اوپر کی اور مسجد خواہ کشادہ ہو یا تنگ، کہ مسجد اس کام کے لیے نہیں بنائی گئی ہے مسجد تو عبادت، تلاوت اور ذکر الہی کے لیے بنائی گئی ہے اس میں یہ چیزیں رکھنا منع ہے حدیث میں ہے سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” انما ھی لذکر اللہ والصلوۃ وتلاوۃ القرآن ” مساجد تو ذکر الہی اور نماز و تلاوت قرآن کے لیے ہیں ۔ ( صحیح مسلم شریف صفحہ 129 جلد 1 باب وجوب غسل البول) پھر شرعاً موجودہ تعزیہ داری ناجائز ہے ، تو مسجد کو اس کے کسی غرض کے لئے استعمال کرنا بھی ناجائز ہوگا، مسلمانوں پر لازم ہے کہ مسجد کو تعزیہ کے ڈھانچے سے خالی کریں اور نمازیوں کو وہاں نماز پڑھنے کا موقع دیں اور فورا ہی اس پر عمل درآمد ہو ۔ واللہ تعالی اعلم کتبــــــــــــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ