بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2411 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
وقف میں تبدیلی کرنا جائز نہیں
سوال : مرد و عورت دونوں نے اپنا بنا ہوا مکان جو کہ گاؤں کے اندر ہے اس کا آدھا حصہ مسجد کو ہبہ کر دیا اور آدھا حصہ مدرسہ کو ہبہ کر دیا، اس کے بعد مرد کا انتقال ہو گیا تو وہ عورت چاہتی ہے کہ موقوفہ مکان کو بیچ کر مسجد اور مدرسے میں اس کی قیمت صرف کر دی جائے تو اس میں کوئی شرعی قباحت تو نہیں؟ الجوابــــــــــــــــــــــ وہ مکان بیچنا جائز نہیں ،جس طور پر وقف ہوا ہے اسی طور پر مسجد و مدرسہ میں اسے استعمال کریں ۔ فتاوی عالمگیری میں ہے لا یجوز تغییر الوقف عن ھیئتہ فلا یجعل الدار بتانا ولا الخان حماما ” (الفتاوی الہندیہ ،ج،٢: 490 الباب الرابع عشر فی المتفرقات) واللہ تعالی اعلم کتبـــــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ