صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

دارالافتاء
اہل سنت

MASAIL WORLD

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat

www.masailworld.com

مسائل ورلڈ

دارالافتاء اہل سنت

Fatwa #2403 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)

کیا اللہ تبارک و تعالی کو آپ کہہ سکتے ہیں؟ از مفتی نظام الدین رضوی

سائل (Questioner): دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat تاریخ: September 18, 2025
0 12,633

سوال (Question):

کیا اللہ تبارک و تعالی کو آپ کہہ سکتے ہیں؟ از مفتی نظام الدین رضوی

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

کیا اللہ تبارک و تعالی کو آپ کہہ سکتے ہیں؟

الجوابــــــــــ جہاں تک جائز ہونے کی بات ہے تو اس میں کوئی کلام نہیں کہ جائز ہے، لیکن اللہ تعالی کے لیے لفظ آپ کا استعمال آج کل بدمذہبوں کی پہچان بن چکا ہے، وہ اللہ تعالی کے لیے آپ کا استعمال کرتے ہیں. اور جو غیروں کا شعار بن جائے اسے اختیار کرنے سے منع کیا گیا ہے اگر وہی لفظ آپ بولیں گے تو مشتبہ ہو جائیں گے لہذا اس کے استعمال سے بچیں ۔ تقریب فہم کے لئے اس کو ایک مثال سے یوں سمجھیں کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے ۔ ” وللہ العزۃ ورسولہ وللمؤمنین ” یعنی اللہ رسول اور مسلمانوں کے لئے عزت ہے ۔ اور اللہ تعالی کے لیے عزوجل کا استعمال عام و شائع ہے، اب اگر کوئی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے یا کسی عام مسلمان کے لیے عزوجل کا استعمال کرے تو یہ ہرگز جائز نہیں ہوگا کیونکہ عرف میں عزوجل کا استعمال اللہ تعالی کے لیے خاص ہے ۔ یوں ہی سمجھ لیجئے آج کے عرف میں اللہ تعالی کے لئے آپ” یا فرماتے ہیں کہنا ہم اہلسنت کے لیے درست نہیں، دراصل جائز ہے مگر خارجی مانع کی وجہ سے اس کے بولنے سے احتراز چاہیے ۔ واللہ تعالی اعلم کتبـــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat