لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

کیا اللہ تبارک و تعالی کو آپ کہہ سکتے ہیں؟ از مفتی نظام الدین رضوی

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

کیا اللہ تبارک و تعالی کو آپ کہہ سکتے ہیں؟

الجوابــــــــــ جہاں تک جائز ہونے کی بات ہے تو اس میں کوئی کلام نہیں کہ جائز ہے، لیکن اللہ تعالی کے لیے لفظ آپ کا استعمال آج کل بدمذہبوں کی پہچان بن چکا ہے، وہ اللہ تعالی کے لیے آپ کا استعمال کرتے ہیں. اور جو غیروں کا شعار بن جائے اسے اختیار کرنے سے منع کیا گیا ہے اگر وہی لفظ آپ بولیں گے تو مشتبہ ہو جائیں گے لہذا اس کے استعمال سے بچیں ۔ تقریب فہم کے لئے اس کو ایک مثال سے یوں سمجھیں کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے ۔ ” وللہ العزۃ ورسولہ وللمؤمنین ” یعنی اللہ رسول اور مسلمانوں کے لئے عزت ہے ۔ اور اللہ تعالی کے لیے عزوجل کا استعمال عام و شائع ہے، اب اگر کوئی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے یا کسی عام مسلمان کے لیے عزوجل کا استعمال کرے تو یہ ہرگز جائز نہیں ہوگا کیونکہ عرف میں عزوجل کا استعمال اللہ تعالی کے لیے خاص ہے ۔ یوں ہی سمجھ لیجئے آج کے عرف میں اللہ تعالی کے لئے آپ” یا فرماتے ہیں کہنا ہم اہلسنت کے لیے درست نہیں، دراصل جائز ہے مگر خارجی مانع کی وجہ سے اس کے بولنے سے احتراز چاہیے ۔ واللہ تعالی اعلم کتبـــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات