لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 12 اگست 2026

عورتوں کی نماز کا مردوں سے شرعی فرق

کیا عورتوں اور مردوں کے نماز پڑھنے کے طریقے میں کوئی فرق ہے؟

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

جی ہاں، فقہ حنفی اور احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں عورتوں کی نماز کا طریقہ پردے اور سمٹنے پر مبنی ہے۔ عورتیں تکبیرِ تحریمہ کے وقت ہاتھ صرف کندھوں تک اٹھائیں گی اور سینے پر ہاتھ باندھیں گی۔ رکوع میں تھوڑا جھکیں گی کہ ہاتھ گھٹنوں تک پہنچ جائیں، اور سجدے میں سمٹ کر (بازو پسلیوں سے ملا کر اور پیٹ رانوں سے ملا کر) سجدہ کریں گی۔ التحیات میں دونوں پاؤں دائیں طرف نکال کر بیٹھیں گی۔ واللہ اعلم۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات