دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #2399
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
امامت کے لیے تنخواہ کی شرط لگانا کیسا ہے؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
12,209
سوال (Question):
امامت کے لیے تنخواہ کی شرط لگانا کیسا ہے؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
امامت کے لیے تنخواہ کی شرط لگانا کیسا ہے؟
سوال : زید ایک عالم دین ہے اور انہوں نے مسجد میں نماز پڑھنے کے لیے یہ شرط لگائی ہے کہ اگر مجھ کو نماز پڑھانے کے لیے رکھنا ہے تو کم سے کم تین سال رکھنا پڑے گا اور تنخواہ دس ہزار دینی پڑے گی ۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ مسجد میں نماز پڑھانے کے لیے اس طرح کی شرط لگانا کیسا ہے؟ جائز ہے یا نہیں؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــ اجارے کی مدت اور اجرت مقرر کرنا جائز ہے تو تین سال کے لیے اجارہ امامت اور دس ہزار روپے ماہانہ جائز ہے. اور بات طے ہو جائے تو تین سال سے پہلے بلاعذر شرعی فسخ اجارہ ناجائز ہے ۔ رد المحتار میں ہے ” لا یجوز عزل صاحب وظیفۃ بلا جنحۃ ” امام معذور ہوگیا تو تین سال سے پہلے بھی یہ اجارہ فسخ کرنا جائز ہے، اور فسخ کے دن سے وہ امامت کی تنخواہ کا حقدار نہ ہوگا ۔ واللہ تعالی اعلم کتبــــــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپو ر
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat