لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

امامت کے لیے تنخواہ کی شرط لگانا کیسا ہے؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

امامت کے لیے تنخواہ کی شرط لگانا کیسا ہے؟

سوال : زید ایک عالم دین ہے اور انہوں نے مسجد میں نماز پڑھنے کے لیے یہ شرط لگائی ہے کہ اگر مجھ کو نماز پڑھانے کے لیے رکھنا ہے تو کم سے کم تین سال رکھنا پڑے گا اور تنخواہ دس ہزار دینی پڑے گی ۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ مسجد میں نماز پڑھانے کے لیے اس طرح کی شرط لگانا کیسا ہے؟ جائز ہے یا نہیں؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــ اجارے کی مدت اور اجرت مقرر کرنا جائز ہے تو تین سال کے لیے اجارہ امامت اور دس ہزار روپے ماہانہ جائز ہے. اور بات طے ہو جائے تو تین سال سے پہلے بلاعذر شرعی فسخ اجارہ ناجائز ہے ۔ رد المحتار میں ہے ” لا یجوز عزل صاحب وظیفۃ بلا جنحۃ ” امام معذور ہوگیا تو تین سال سے پہلے بھی یہ اجارہ فسخ کرنا جائز ہے، اور فسخ کے دن سے وہ امامت کی تنخواہ کا حقدار نہ ہوگا ۔ واللہ تعالی اعلم کتبــــــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپو ر

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات