لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

صرف ایک بیٹے کو تمام جائیداد دے دینا اور دوسرے کو محروم رکھنا جائز ہے یا نہیں؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

صرف ایک بیٹے کو تمام جائیداد دے دینا اور دوسرے کو محروم رکھنا جائز ہے یا نہیں؟

سوال : حضور میرا مسئلہ یہ ہے کہ اگر باپ جیتے جی تمام جائیداد صرف ایک بیٹے کو دے دے یعنی ہبہ کردے اور دوسرے بیٹے کو اس میں سے کچھ حصہ نہ دے ۔ تو یہ شرعی طور سے صرف ایک بیٹے کو تمام جائیداد ہبہ کردینا اور دوسرے کو محروم رکھنا جائز ہے یا نہیں؟ الجوابــــــــــــــــــــــــ باب ہرگز ہرگز ایسا نہ کرے کہ ساری جائیداد ایک لڑکے کو دے دے اور باقی سب لڑکوں اور وارثوں کو محروم کر دے ۔ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا "جو اپنے وارث کو اپنی میراث دینے سے بھاگے اللہ تعالی جنت سے اس کے میرا کاٹ دے ۔ مشکوٰۃ شریف دوسری حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ” اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد کو برابر برابر دو ۔ مشکوٰۃ شریف واللہ تعالی اعلم کتبــــــــــــــــــہ :مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات