دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #2387
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
مرتہن نے قبضہ کے بعد شی مرہون کو کو راہن کو اجرت پر دیا تو یہ جائز ہے یا نہیں ؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
4,541
سوال (Question):
مرتہن نے قبضہ کے بعد شی مرہون کو کو راہن کو اجرت پر دیا تو یہ جائز ہے یا نہیں ؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
مرتہن نے قبضہ کے بعد شی مرہون کو کو راہن کو اجرت پر دیا تو یہ جائز ہے یا نہیں ؟
سوال : ایک شخص نے اپنا گھر کسی کے پاس رہن رکھا پھر مرتہن نے قبضہ کے بعد شی مرہون کو کو راہن کو اجرت پر دیا تو یہ جائز ہے یا نہیں برائے مہربانی جواب ارشاد فرمائیں اور عند اللہ ماجور ہوں؟ الجوابــــــــــــــــــــــ یہ صورت حقیقت میں قرض اور سود کی ہے لہذا حرام وگناہ ہے ایسے معاملات سے بچنا فرض ہے ۔ واللہ تعالی اعلم ۔ کتبـــــــــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat