لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

مشت زنی اور احتلام ناقض صوم ہے یا نہیں؟ از مفتی عبد القادر جامعی

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

مشت زنی اور احتلام ناقض صوم ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو کیوں جب کہ جماع ناقض صوم ہے۔

بسم الله الرحمٰن الرحیم الجواب بعون الملک الوھابـــــــــ مشت زنی اور احتلام ناقص صوم نہیں جماع ناقض صوم ہے کیوں کہ روزہ دخول سے ناقض ہوتا ہے خروج سے نہیں ۔ لیکن اگر مشت زنی سے انزال ہوجاے تو روزہ ٹوٹ جاے گا اور اس کی قضا بھی لازم ہوگی ۔ تنویر الابصار ودرمختار میں ہے : ” او اکل او جامع ناسیا او احتلم او انزل بنظر او ذرعہ القئی” اھ ( تنویرالابصار مع الدرالمختار : ج: 3، ص: 431، کتاب الصوم، باب مایفسد الصوم ومالا یفسدہ) در مختار میں ہے : ” وکذا الاستمناء بالکف وان کرہ تحریما لحدیث ناکح الید ملعون” اسی کے تحت ردالمحتار میں ہے : ” ای فی کونہ لا یفسد، لکن ھذا اذا لم ینزل اما اذا انزل فعلیہ القضاء کما سیصرح بہ وھو المختار” اھ (تنویر الابصار مع الدرالمختار و ردالمحتار : ج: 3، ص: 426، کتاب الصوم) بہار شریعت میں ہے : ” غیر سبیلین میں جماع کیا تو جب تک انزال نہ ہو روزہ نہ ٹوٹے گا ۔ یوہیں ہاتھ سے منی نکالنے میں اگر چہ یہ سخت حرام ہے کہ حدیث میں اسے ملعون فرمایا” اسی میں ہے: ” احتلام ہوا یا غیبت کی تو روزہ نہ گیا اگر چہ غیبت بہت سخت کبیرہ ہے ” اھ (بہار شریعت : ج: 1 ، ح: 5 ، ص: 983- 984) مشت زنی سے انزال کی صورت میں روزہ کی قضا کا ذکر بہار شریعت میں ہے: "یا ہاتھ سے منی نکالی یا مباشرت فاحشہ سے انزال ہوگیا…ان سب صورتوں میں صرف قضا لازم ہے کفارہ نہیں ” اھ ملتقطا (بہارشریعت : ج: 1، ص: 989، روزہ ٹوٹنے والی چیزوں کا بیان )واللہ تعالٰی اعلم کتبــــــہ : مفتی عبدالقادر المصباحی الجامعی مقام مہیپت گنج، ضلع گونڈہ یو پی، انڈیا            ٢٩ ربیع الآخر ١٤٤٣ھ

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات