لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

ایل آئی سی کی رقم میں زکوۃ کا کیا حکم ہے؟ / زکوۃ کے مسائل

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

ایل آئی سی کی رقم میں زکوۃ کا کیا حکم ہے؟

سوال : مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ ایل آئی سی، سی پی ایف اور ایریر پر بھی زکوۃ کا حکم ہے ۔ اب معلوم ہوا تو 1975 سے لے کر جون 2006 تک کا ایریر، ایل آئی سی اور سی پی ایف کی پوری تفصیل پیش کر رہا ہوں ۔ اس کے بارے میں بتائیں کہ ان رقوم پر مجھے کتنی زکاۃ دینی ہوگی ۔ الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــــ سی پی ایف اور ایل آئ سی وغیرہ رقوم کا جو تفصیلی چاٹ پیش کیا ہے وہ کچھ پیچیدہ اور وقت طلب ہے ۔ آپ ہر سال کا ٹوٹل خود تیار کریں ۔ جب تمام سالوں کی رقوم کا ٹوٹل الگ الگ تیار ہوجائے تو پہلے سال کے ٹوٹل میں سے اس کی زکوۃ ڈھائی فیصد نکالیں، مثلا پہلے سال کا ٹوٹل ہے بارہ سو روپے اور دوسرے سال کا ٹوٹل ہے دو ہزار پچیس روپے ۔ پہلے سال کے ٹوٹل کی زکوۃ 30 روپے ہوئ وہ تیس روپے دوسرے سال کے ٹوٹل سے گھٹا دیں تو دوسرے سال کا باقی ٹوٹل 1995 روپے ہوگا, اب اس کی زکوۃ تقریبا پچاس روپے ہیں وہ پچاس روپے تیسرے سال کے ٹوٹل سے گھٹا کر بقیہ کی زکوٰۃ نکالیں اسی طرح گزشتہ سالوں کی زکوۃ ادا کریں ۔ ہمارے پاس نہ تو پچھلے سالوں کا چاندی کا ریٹ ہے اور نہ ہی یہ معلوم کہ ان سالوں میں کتنے روپے پر زکوۃ فرض ہوتی تھی، اور نہ یہ معلوم کہ آپ مالک نصاب تھے یا نہیں، لیکن عبادات میں احتیاط پر عمل واجب ہے ۔ ممکن ہے کہ 1975/1976 عیسوی میں بارہ سو روپے پر 56 روپے بھر چاندی کا نصاب زکوۃ پورا ہو جاتا ہو ، اس لیے احتیاط کا تقاضا یہی ہے کہ آپ ٧٥ عیسوی سے لے کر آج تک کے تمام سالوں کی زکوۃ درج بالا طریقے پر ادا کریں۔ اگر بالفرض ان دنوں میں آپ پر زکوۃ فرض نہ رہی ہو تو یہ آپ کی طرف سے اللہ تعالی کے راستے میں ایک صدقہ ہوگا ۔ جو ثواب کے ساتھ ساتھ فوائد اور برکات کا وسیلہ ہوتا ہے ۔ پھر دل کو بھی اطمینان حاصل ہو گا کہ ہم نے اللہ تعالی کے واجب کردہ حق مال کو ضرور ادا کر دیا ہے ۔ واللہ تعالی اعلم کتبــــــــــــــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات