صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

دارالافتاء
اہل سنت

MASAIL WORLD

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat

www.masailworld.com

مسائل ورلڈ

دارالافتاء اہل سنت

Fatwa #2375 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)

ضرورت کا اعتراف کرنے والے کو زکوۃ دے سکتے ہیں؟ / زکوۃ کے مسائل

سائل (Questioner): دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat تاریخ: September 18, 2025
0 5,230

سوال (Question):

ضرورت کا اعتراف کرنے والے کو زکوۃ دے سکتے ہیں؟ / زکوۃ کے مسائل

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

ضرورت کا اعتراف کرنے والے کو زکوۃ دے سکتے ہیں؟

سوال : ضرورت کا اعتراف کرنے والے کو زکوۃ دے سکتے ہیں؟ دوا لینے کے لیے آنے والا ضرورت مند کہے کہ میں زکوۃ کا مستحق ہوں تو کیا اس کی بات پر یقین کر کے اس کو حقدار مان لیا جائے گا؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــــــ زکوۃ دینے والا دل میں اچھی طرح غور کرے اگر اس کا دل اس پر جمے کہ وہ سچا ہے تو اسے زکوۃ کا حقدار مان کر زکوۃ دے سکتا ہے ۔ عالمگیری وغیرہ میں ہے جس نے تحری کی یعنی سوچا اور دل میں یہ بات جمی کہ اس کو زکوۃ دے سکتے ہیں اور زکوۃ دے دیا بعد میں ظاہر ہوا کہ وہ مصارف زکوۃ ہے یا کچھ حال نہ کھلا تو ادا ہوگئی ۔ اور بعد میں معلوم ہوا کہ وہ غنی تھا یا اپنی اولاد تھی یا شوہر تھا جب بھی ادا ہوگئی ۔ اور یہ بھی تحریک کے حکم ہے کہ اس نے سوال کے اور اس نے اسے غنی نہ جان کر دے دیا یا وہ فقیروں کی جماعت میں انہی کا تھا اسے دے دیا تو پھر بھی زکوۃ ادا ہوگئی ۔ ( عالمگیری، در مختار، رد المحتار، بہار شریعت صفحہ 64، حصہ 5، مصرف زکوۃ) واللہ تعالی اعلم ۔ کتبـــــــــــہ :مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat