بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2374 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
میڈیکل عصری تعلیم اور ہاؤسنگ کے لیے مستحق فقراء کو زکوۃ دے سکتے ہیں؟
سوال : میڈیکل، دنیاوی تعلیم، ہاؤسنگ کے لیے اشتہار کرکے کیا زکوۃ فنڈ وصول کیا جا سکتا ہے؟ مانگنے والے نے میڈیکل تعلیم یا ہاؤسنگ کے لیے زکوۃ مانگی ہے. زکوۃ دینے والا اس طرح ان امور کے لئے زکات دے سکتا ہے؟ ان میں سے کسی کام کے لیے خاص طور پر زکوۃ وصول کی جا سکتی ہے؟ اور کیا دینے والا اسے خاص کام کی شرط پر دے سکتا ہے؟ الجوابـــــــــــــــــــــ میڈیکل اور دنیاوی تعلیم اور ہاؤسنگ کے لئے خود زکوۃ کے حقدار فقراء اور مساکین کو زکوۃ دے سکتے ہیں اس کے بعد انہیں اختیار ہے کہ وہ اپنی جس صورت میں چاہیں صرف کریں ۔ اور زکوۃ کا فنڈ قائم کر کے ان مقاصد کے لئے زکوۃ وصول کرنا جائز نہیں کہ قرآن و حدیث میں زکوۃ کے جو مصارف بیان کیے گئے ہیں یہ ان میں سے نہیں ہے. ہمارے علماء نے اب زکات و صدقات واجبہ کا بیت المال قائم کرنے سے بھی منع فرما دیا ہے جیسا کہ مجلس شرعی جامعہ اشرفیہ کے فقہی سیمینار میں یہ فیصلہ ہوچکا ہے ۔ زکوۃ کل ڈھائی فیصد نکلتی ہے جب کہ مالک کے پاس ساڑھے ستانوے فیصد محفوظ رہتا ہے ۔ اور مسلم رہنماؤں کو چاہیے کہ اسی ساڑھے ستانوے فیصد سے معمولی حصہ درج بالا امور کے لیے خاص کر دیں ، اگر ایسا ہوگیا تو قوم مسلم کے بہت سے ملی سماجی اور نجی مسائل حل ہو سکتے ہیں ۔ واللہ تعالی اعلم کتبـــــــــــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ