بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2372 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
اقامت کے بعد امام صاحب کسی سے بات کر سکتے ہیں یا نہیں؟
الجوابــــــــــــــــــــــــــــ نہیں، اقامت کے بعد وہ کسی سے بات نہیں کر سکتے بلکہ اقامت کا مطلب ہی یہ ہے کہ اب نماز قائم ہوگئی، نماز شروع ہوگئی، اور نماز میں بات چیت کرنا منع ہے ۔ اس لیے انہیں فورا نماز شروع کر دینی چاہیے اور دنیا کی بات میں نہیں لگنا چاہیے ۔ لیکن اگر کسی مجبوری کے تحت ایک یا دو لفظ بول دیا تو اس میں کوئی حرج نہیں ۔ اور اگر بات نماز کے تعلق سے ہے تو اس کی اجازت ہے کیونکہ حدیث پاک میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اقامت کے بعد صفوں کو سیدھی کرنے کا حکم دیتے مگر صفوں کو درست کرنا نماز سے ہے دنیا کی بات نہیں ۔ واللہ تعالی اعلم کتبـــــــــــــــــــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ