بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2368 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
کیا مسبوق مکبر بن سکتا ہے؟
الجوابــــــــــــــــــــ مسبوق مکبر بن سکتا ہے لیکن اس کو بچنا چاہئے، اور ایسے شخص کو مکبر بننا چاہیے جو شروع نماز سے امام کے ساتھ رہے، ہر آدمی کو مکبر بننا بھی نہیں چاہیے بلکہ اس کو بننا چاہیے جس کو نماز کے مسائل ٹھیک سے یاد ہوں کیونکہ جو لوگ ان پڑھ ہوتے ہیں اور جنہیں مسائل معلوم نہیں ہوتے وہ جب تکبیر کہتے ہیں تو کچھ صورتوں میں نماز فاسد ہو جاتی ہے ۔ اس لیے جن لوگوں کو یہ ذمہ داری سونپی جائے وہی تکبیر کہیں اور جو شروع ہی سے شامل نماز ہو وہ کہے ۔ یہ تکبیر حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کی سنت کریمہ ہے اور وہ بڑے زبردست عالم و فقیہ بلکہ انبیاء کرام کے بعد مسلمانوں میں سب سے زیادہ علم و فضل والے تھے ۔ اور جس نماز میں انہوں نے تکبیر کہی اس میں شروع ہی سے شریک تھے، تو جو شخص آپ کا نائب ہو یعنی صاحب علم و فضل ہو وہ اس لائق ہے کہ مکبر بنے، اس لیے مسائل نماز سے واقف علماء، حفاظ، و قراء اس منصب کے زیادہ حقدار ہیں اور انہیں کو یہ ذمہ داری قبول کرنی چاہیے ۔ واللہ تعالی اعلم علم کتبـــــــــــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ