بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2365 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
الٹا کپڑا پہن کر نماز ہوگی یا نہیں ؟ / نماز کے مکروہات
سوال : کپڑے کو الٹا کرنے سے کیا مراد ہے نیز الٹے کپڑے میں نماز ہوگی یا نہیں؟ الجوابـــــــــــــــــــــ کپڑے کو الٹا کرنے سے مراد یہ ہے کہ پہننے کے کپڑے کو اس طور پر الٹ کر پہنا جائے کہ لوگ دیکھیں تو برا سمجھیں، ہنسیں ۔ اور اس طور پر کپڑا پہن کر دوسروں کے سامنے جانے کو طبیعت نہ چاہے ۔ اور بڑوں کے دربار میں وہ بے ادبی سمجھا جائے تو اس طور پر کپڑا پہن کر نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے ۔ ایک دوسری صورت یہ ہے کہ کپڑا اس طور پر موڑے جو عادت کے خلاف ہو کہ اس طور پر کسی باوقار بارگاہ میں جانا معیوب ہو یہی کف ثوب کہلاتا ہے۔ اور ایسے انداز میں نماز کے لئے احکم الحاکمین کی بارگاہ میں جانا مکروہ تحریمی ہے ۔ واللہ تعالی اعلم کتبــــــــــــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ