بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2340 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
مسجد میں حرام چیز لے جانا کیسا ہے ؟
زید اور بکر میں کافی دنوں سے جھگڑا چل رہا ہے، بکر کسی غلط کام میں پکڑا گیا تو زید نے کہا کہ اگر بکر کے بارے میں فیصلہ نہیں کیا گیا تو ہم خود حرام کو کاٹیں گے اور حرام کے ساتھ مسجد میں داخل ہوں گے دیکھتے ہیں کون ہم کو کیا کرتا ہے۔ لہذا زید پر کیا شریعت کا حکم صادر ہوگا؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــــمسجد میں حرام چیز لے جانا
غرور و تکبر بھی ناجائز ہے اور مسجد میں حرام و ناپاک چیز لے جانا بھی ناجائز ہے زید نے تکبر آمیز بات کہی ، اور مسجد کو ناپاک و حرام چیز سے آلودہ کرنے کا ارادہ کیا یہ بہت قبیح ہے اس پر لازم ہے کہ اس سے باز رہے ۔ در مختار میں احکام مساجد کے بیان میں ہے : ویمنع منہ ، وکذا کل موذ ولو بلسانہ ۔ واللہ تعالی اعلم کتبـــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارک پور
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ